اصحاب احمد (جلد 4) — Page 97
۹۷ منشی صاحب کے اوپر اور نیچے سب پانی ہی پانی ہو گیا۔اور میں بیچ رہا۔چونکہ خدا کے فضل سے چوٹ کسی کو بھی نہیں آئی تھی۔میں نے منشی اروڑا صاحب کو اوپر اٹھاتے ہوئے ہنس کر کہا ”لواو پر اور نیچے پانی کی اور دعائیں کروالو۔“ اور پھر ہم حضرت صاحب کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے آگے روانہ ہو گئے۔بے نظیر اخلاص و ایثار دوسری روایت منشی ظفر احمد صاحب مرحوم یہ بیان کرتے تھے کہ ایک دفعہ اوائل زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لدھیانہ میں کسی ضروری تبلیغی اشتہار کے چھپوانے کے لئے ساٹھ روپے کی ضرورت پیش آئی۔اس وقت حضرت صاحب کے پاس اس رقم کا انتظام نہیں تھا۔اور ضرورت فوری اور سخت تھی۔منشی صاحب کہتے تھے کہ میں اس وقت حضرت صاحب کے پاس لدھیانہ میں اکیلا آیا ہوا تھا۔حضرت صاحب نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ اس وقت یہ اہم ضرورت درپیش ہے۔کیا آپ کی جماعت اس رقم کا انتظام کر سکے گی۔میں نے عرض کیا حضرت انشاء اللہ کر سکے گی۔اور میں جا کر روپے لاتا ہوں۔چنانچہ میں فوراً کپورتھلہ گیا۔اور جماعت کے کسی فرد سے ذکر کرنے کے بغیر اپنی بیوی کا ایک زیور فروخت کر کے ساٹھ روپے حاصل کئے اور حضرت صاحب کی خدمت میں لاکر پیش کر دئیے حضرت صاحب بہت خوش ہوئے اور جماعت کپورتھلہ کو ( کیونکہ حضرت صاحب یہی سمجھتے تھے کہ اس رقم کا جماعت نے انتظام کیا ہے ) دعا دی۔چند دن کے بعد منشی اروڑا صاحب بھی لدھیانہ گئے تو حضرت صاحب نے ان سے خوشی کے لہجہ میں ذکر فرمایا کہ منشی صاحب اس وقت آپ کی جماعت نے بڑی ضرورت کے وقت امداد کی۔منشی صاحب نے حیران ہوکر پوچھا ”حضرت کون سی امداد؟ مجھے تو کچھ پتہ نہیں؟“ حضرت وو