اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 87 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 87

۸۷ کے بھانجے منشی کظیم الرحمن صاحب کے ایک خط سے یہ اطلاع ملی کہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلہ میں سخت بیمار ہیں اور حالت تشویشناک ہے۔میں نے اس اطلاع کے ملتے ہی حضرت منشی صاحب موصوف کے صاحبزادہ شیخ محمد احمد صاحب بی۔اے۔ایل ایل بی کپور تھلہ کے نام ایک خط اظہار ہمدردی اور دریافت خیریت کے لئے ارسال کیا اور مجھے یہ خوشی ہے کہ میرا یہ خط منشی صاحب مرحوم کی زندگی میں ہی ان کی وفات سے چند گھنٹے قبل شیخ محمد احمد صاحب کو مل گیا اور منشی صاحب مرحوم کے علم میں بھی آ گیا جنہوں نے اس خط پر خوشی اور تسکین کا اظہار فرمایا۔مگر چونکہ خدا کے علم میں حضرت منشی صاحب کا پیمانہ حیات لبریز ہو چکا تھا اور وفات کا مقدر وقت آچکا تھا۔اس لئے وہ میرے خط کے پہنچنے کے چند گھنٹے بعد یعنی ۲۰- اگست ۱۹۴۱ء کی صبح کو ۳۰-۶ بجے کے قریب وفات پا کر اپنے محبوب حقیقی کے قدموں میں جا پہنچے۔فَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيهِ رَاجِعُونَ وَكُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَّيُبْقَىٰ وَجُهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ۔وفات کی اطلاع ددمنشی صاحب مرحوم کی وفات کی اطلاع مجھے شیخ محمد احمد صاحب کی تار کے ذریعہ ملی۔جو مجھے ۲۰ اگست کی دو پہر کو موصول ہوئی۔اس تار میں یہ اطلاع بھی درج تھی کہ منشی صاحب کا جنازہ آرہا ہے۔اور قادیان میں شام کے قریب پہنچے گا۔میں نے اس تار کے ملتے ہی حضرت مولوی شیر علی صاحب مقامی امیر اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب اور منشی کظیم الرحمن صاحب اور افسر صاحب صیغہ مقبرہ بہشتی اور ایڈیٹر صاحب الفضل کی خدمت میں اطلاع بھیجوا دی۔اور دفتر مقبرہ بہشتی کے ہیڈ کلرک صاحب کو اپنے پاس بلا کر یہ مشورہ دیا کہ منشی صاحب مرحوم چونکہ قدیم ترین صحابه