اصحاب احمد (جلد 4) — Page 63
۶۳ و امر هم شوری بینھم کا ارشاد فرمایا۔حالات کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء کے زمانہ میں بھی بوقت ضرورت اعلان کر کے احباب کو جمع کر کے مشورہ کر لیا جاتا تھا۔لیکن با وجود تمام لوگوں کے جمع ہونے کے ان کے صرف امیر ہی رائے دیتے تھے۔یا خاص مشورہ کے اہل اصحاب کو مشورہ کے لئے بلایا جاتا یا کسی خاص معاملہ میں مشورہ کے لئے افراد کو انفرادی طور پر بلا کر الگ الگ مشورہ لے لیا جاتا۔اس زمانہ میں سفر کی سہولتیں میسر نہ ہونے کی وجہ سے مدینہ منورہ کے اصحاب سے مشورہ لیا جاتا۔لیکن موجودہ زمانہ کے حالات کے مطابق سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے شوری کے نظام کو باقاعدگی سے قائم فرمایا۔چنانچہ پہلی با قاعدہ شوری ۱۵ اور ۱۶ اپریل ۱۹۲۲ء کو منعقد ہوئی۔جس میں بیرونی جماعتوں کے باون نمائندگان نے تین سو کی تعداد میں شرکت کی۔اس اولین شوری میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلہ نے بھی شرکت فرمائی۔یہی نظام شوری حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق سالانہ بجٹ پر نظر کرتا ہے۔سال بھر کے لئے اس میں پروگرام طے کیا جاتا ہے۔مفید مشوروں کے رنگ میں اداروں اور صیغہ جات کی ہر قسم کی خامی دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور سابقہ شوریٰ کے فیصلہ جات پر جس رنگ میں مرکز اور بیرون مرکز جس حد تک عمل ہو چکا ہوتا ہے اسے بھی زیر غور لایا جاتا ہے۔شوری جماعت کی تمام شاخوں اور مرکز میں گہرے تعاون اشتراک عمل اور فعالیت کا باعث بنتی ہے۔یہ شوریٰ خلیفہ وقت کی طرف سے ہے تا مشورہ لیا جا سکے۔اور باہر کے احباب واقف ہو سکیں کہ مرکز ان سے حاصل شدہ اموال سے کیا کام سرانجام دیتا ہے۔اور کارکنوں کی مشکلات سے بھی واقف ہوسکیں۔اور بیرونی جماعتوں کا مرکز سے رابطہ گہرا ہو سکے۔پہلی مجلس شوریٰ میں حضرت منشی صاحب نے بھی شرکت کی۔بعد ازاں بھی کئی دفعہ شریک ہوتے رہے۔( مثلاً ۲۹ء ۳۴ ء میں )۔حضور کے مکتوبات و حضرت عرفانی صاحب مکتوبات احمدیہ میں تحریر فرماتے ہیں : : حضرت منشی صاحب کے نام جس قدر مکتوبات معلوم ہو سکے ہیں۔کتاب ہذا میں درج کر دیئے ہیں ،ان