اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 54 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 54

۵۴ ہمارے بعض دوست گلے تک پانی میں گذر کر گورداسپور پہنچے۔ان میں منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلہ کے مخلص ترین دوست بھی تھے۔حضرت کو یہ خبر اس وقت پہنچی کہ حضور قادیان کے قصبہ سے باہر نکل چکے تھے اور بٹالہ کی سٹرک پر طوفان نما سیلاب جاری تھا۔آپ نے سن کر فرمایا: ” نبی جب کمر باندھ لیتے ہیں تو کھولتے نہیں اور وہ اپنا عزم نہیں توڑتے۔‘۲۳ مکتوبات حضرت اقدس کی حفاظت میں شرکت - حضرت منشی صاحب۔میر عباس علی صاحب لدھیانوی کے نام حضرت اقدس کے مکتوبات محفوظ کرنے کا ذریعہ بنے۔ورنہ یہ قیمتی اور انمول خطوط جو تصوف کے عجیب و نادر تفاصیل پر مشتمل تھے۔ہمیشہ کیلئے ناپید ہو جاتے ان کے علاوہ آپ بہت سے خطوط کو محفوظ کرنے کا موجب بنے۔چنانچہ حضرت عرفانی صاحب ایڈیٹر الحکم نے اس تعلق میں آپ کا متعدد بار ذکر کیا ہے۔۲۴۔ایک جگہ آپ لکھتے ہیں کہ : چونکہ ہماری دلی آرزو اور تمنا یہی ہے کہ حضرت اقدس کے ملفوظات ومکتوبات کی بکثرت اشاعت ہو اور جہاں تک ممکن ہوایسے مضامین اور تحریریں جمع کی جائیں جو یا تو آج تک طبع ہی نہیں ہوئی ہیں۔یا ایسے وقت میں طبع ہوئی ہیں۔کہ آج ان کا بہم پہنچنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔بہر حال ہم اس کوشش اور تلاش میں تھے کہ حضرت اقدس کے بہت پرانے مضامین جو ۱۸۷۷ء و ۱۸۷۸ء وغیرہ میں چھپے تھے۔ان کو بہم پہنچایا جائے۔ہم اپنے بھائی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی کے از حد مشکور ہیں۔کہ انہوں نے اس سلسلہ میں بہت مدد دی ہے۔چنانچہ آج کل ایک نیا رسالہ ہم طبع کر رہے ہیں۔اس رسالہ میں مندرجہ ذیل مضامین ہیں۔