اصحاب احمد (جلد 4) — Page 44
۴۴ کے یہ سات پاکباز نفوس دو بار اس پیشگوئی کے پورا کرنے والوں میں شامل ہوئے۔اللھم صلى على محمد وعلى ال محمد و علی عبدك المسيح الموعود و اله وبارک وسلم انک حمید مجید۔ایک مکی دوست کی اعانت حضرت اقدس نے ۱۷ مارچ ۱۸۹۳ء کے اشتہار میں اعلان فرمایا کہ مکہ معظمہ کے ایک دوست جن کا ذکر خیر ازالہ اوہام میں موجود ہے۔مالی حوادث کی وجہ سے ملک ہند میں تشریف لائے تھے۔اور چار سال سے کوئی فتوح غیب میسر نہیں آئے۔وہ صالح۔تفرقہ زدہ اور قابل رحم ہیں۔دس کوس سفر کے لئے بھی ان کے پاس زادِ راہ نہیں۔ہر ایک دوست ان کی مدد فرمائے۔خواہ حسب توفیق امداد نہایت قلیل ہو۔اور جماعتیں رقوم جمع کر کے براه راست منشی رستم علی صاحب ڈپٹی انسپکٹر پولیس ریلوے پنجاب لاہور کو بھجوا دیں۔اس وقت تک ایک درجن احباب چندہ دے چکے تھے۔حضور نے ان کے اسماء بھی رقم فرمائے ہیں۔جن میں محمد خاں صاحب کپورتھلہ اور ظفر احمد کپورتھلہ بھی شامل ہیں ہے جشن جو بلی جون ۱۸۹۷ء ملکہ وکٹوریہ کا جشن جو بلی منانے کے لئے قادیان میں سوا دوصد احباب باہر سے تشریف لائے۔قادیان میں اظہار مسرت و تشکر کے طور پر جلسہ منعقد ہوا جس میں چھ زبانوں میں تقریریں کی گئیں۔چندہ جمع ہوا۔غرباء کو کھانا کھلایا گیا۔چراغاں کیا گیا۔باوجود سخت گرمی کے چار پائیاں نہ مل سکنے کے باعث احباب تین دن تک زمین پر ہی سوتے رہے۔چنانچہ اس موقعہ پر حضرت منشی ظفر احمد صاحب۔حضرت منشی اروڑے خاں صاحب اور حضرت عبدالمجید خاں صاحب نے بھی شرکت کی اور دو دو روپے چندہ دیا۔اس تقریب پر سیدنا حضرت اقدس نے ایک کتاب تحفہ قیصریہ تالیف کی۔جسے طبع کرا کے اس کی چند جلد میں نہایت خوبصورت مجلد کرا کے ملکہ وکٹوریہ۔وائسرائے ہند اور لیفٹینینٹ گورنر پنجاب کو