اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 36 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 36

۳۶ نقطہ نظر پر زور دینا ہے۔کہ لڑائی میں ہتھیا را تنا کام نہیں دیتے جتنا اوسان کام دیتے ہیں۔ششم: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغامات والد صاحب، مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی کو پہنچایا کرتے تھے۔اس لئے والد صاحب کی آمد و رفت مولوی صاحب موصوف کے پاس رہتی تھی۔ایک دفعہ مولوی نذیرحسین صاحب نے والد صاحب کو مزاحاً کہا کہ مجھے ایک ایسی حدیث یاد ہے کہ اگر میں بتا دوں تو اس سے مرزا صاحب کو بڑی مدد ملے۔والد صاحب فرماتے ہیں میں یہ سن کر چند منٹ چپ بیٹھا رہا۔ذرا وقفے کے بعد میں نے کہا مولوی صاحب مجھے قرآن شریف کی ایک آیت کا مطلب سمجھا دیں جو یہ ہے۔وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللهِ مولوی صاحب دم بخود ہو گئے۔سفر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تقریباً ہر سفر میں والد صاحب ساتھ رہے۔حضور خود اپنے سفر کی اطلاع پیشتر سے دے دیتے تھے۔اور علاوہ ازیں کپورتھلہ کے اصحاب نے مرکز میں رہنے والے دوستوں کو پابند کیا ہوا تھا۔کہ وہ روز بروز حضور کے حالات اور الہامات لکھ کر بھیج دیا کرتے تھے۔سفر میں حضور کے آرام و آسائش کا خیال رکھنا۔مخالفوں کی روش پر کڑی نظر رکھنا اور تمام حالات سے باخبر رہنا۔ضروری خدمات کو از خود کسی کی فرمائش کے بغیر ادا کرنا ہر امر میں محتاط اور چوکس رہنا۔حضور کے صحابہ کے یہ اوصاف تھے اور والد صاحب کی روایات میں یہ امور جا بجا نظر آتے ہیں۔حضور سے جو تعلق تھا اس میں ناز و نیاز کا ایک عجیب امتزاج تھا۔فرماتے کہ ہم حضور کے ادنیٰ خادم اور غلام تھے۔لیکن ہمارا معاملہ حضور کے ساتھ بہت دفعہ بے تکلف دوستوں کا سا بھی ہوتا اور حضور ہماری باتوں پر ہنستے رہتے۔مثلاً حضرت صاحب کوئی تصنیف فرمارہے ہیں۔اور کسی کو ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم سے والد صاحب کہتے ہیں کہ ہمارے لئے روک نہیں ہے۔حضور بڑی خوشی سے آنے دیتے ہیں یہ ایک کیفیت اور جذبہ تھا کہ جمال دوست کے بغیر ان خادموں کی طبیعت میں اطمینان نہیں