اصحاب احمد (جلد 4) — Page 34
۳۴ رعب داب حکام اور راجہ صاحب تک مانتے تھے۔چیف حج کی طرف سے جو جواب لکھا گیا۔وہ ذرا سخت الفاظ میں تھا۔وزیر مذکور نے برافروختہ ہوکر والد صاحب کی طلبی کی اور حاضر ہونے پر بڑے غضبناک لہجے میں کہا کہ تم کسی کی کچھ پرواہ نہیں کرتے ہو۔والد صاحب نے مود بانہ عرض کیا کہ واقعی میں کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔وزیر مذکور زندہ دل بھی تھا۔اس دوٹوک جواب سے تشخص میں پڑ گیا کہ آخر کوئی بات ہے اور متبسم ہو کر پوچھا کہ آخر کیا بات ہے۔والد صاحب نے عرض کیا کہ آپ خود جانتے ہیں کہ میں کس محنت اور دیانت سے کام کرتا ہوں۔لیکن مدتوں مجھے کوئی ترقی نہ ملی۔آپ نے وزارت سنبھالتے ہی مجھے ترقی دی۔اب میں پر واہ آپ کی کروں یا کسی اور کی۔اس جواب سے بات کا رخ بالکل پلٹ گیا اور اس نے ہنس کر کہا اچھا آپ جائیں۔اور کسی کی کچھ پرواہ نہ کریں۔وہ بات جو غصے سے شروع ہوئی تھی ایک لطیفہ بن کر رہ گئی۔چهارم : کرم دین نے جو استغاثہ حضور کے خلاف دائر کیا تھا۔والد صاحب اس میں بطور گواہ صفائی پیش ہوئے۔کرم دین نے بڑی طویل جرح کرنی چاہی۔لیکن چند جوابوں سے وہ جرح پلٹ کر رہ گئی۔بعدش عدالت نے از خود والد صاحب سے یہ سوال کیا کہ آیا آپ مرزا صاحب پر اپنا جان و مال قربان کر سکتے ہیں۔والد صاحب نے فوراً بھانپ لیا کہ سوال کا مقصد شہادت کو جانبدارانہ ثابت کرنا ہے آپ نے بلا تامل جواب دیا کہ میں نے تو اپنی جان اور مال کی حفاظت کے لئے حضور کی بیعت کی ہے۔فرماتے تھے کہ میرا یہ جواب سن کر اس نے دانتوں میں قلم لے لیا۔بات وہی ہے لیکن طرز ادا بدلنے سے اعتراض کا پہلو جاتا رہا۔یہ اسی قسم کا جواب تھا جو کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے اپنے خواب کی تعبیر بعض معبر وں سے پوچھی۔تو انہوں نے خواب کو منحوس بتایا۔اور اس کی تعبیر یہ کی کہ بادشاہ کے تمام رشتہ دار اس کی زندگی میں ہی فوت ہو جائیں گے۔بادشاہ نے انہیں قید میں ڈال دیا۔ایک دوسرے معبتر کو بلایا تو اس نے یہ تعبیر بیان کی کہ بادشاہ سلامت خواب بڑا مبارک ہے۔اس کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کی عمر آپ کے سب رشتہ داروں سے زیادہ ہو گی۔بادشاہ