اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 232 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 232

۲۳۲ اظہار تعزیت فرمائے۔اس یقین کے پختہ ہونے پر میں گھوڑا تیز کر کے جالندھر شہر پہنچا۔اور سیدھا کچہری میں ڈپٹی کمشنر کے پاس جو انگریز تھا گیا۔اور اسے درخواست دی کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔مجھے پانچ دن کی رخصت دی جائے۔ڈپٹی کمشنر صاحب میری درخواست پڑھ کر کہنے لگے کہ آب کے والد صاحب مشہور خلائق شخصیت تھے۔ان کی علالت کی کوئی خبر یا اطلاع شائع نہیں ہوئی۔کیا آپ کو کوئی تار ملا ہے کہ ان کی وفات اچانک ہوگئی ہے۔میں نے جوابا کہا کہ مجھے تار وغیرہ تو کچھ نہیں ملا۔لیکن مجھے الہام ماتم پرسی ہوا ہے جس سے میں یقین کرتا ہوں کہ میرے والد صاحب وفات پاگئے ہیں۔” میری یہ بات سن کر ڈپٹی کمشنر صاحب ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ الہام ولہام کوئی چیز نہیں۔یہ محض آپ کا وہم ہے۔آپ کے والد خیریت سے ہیں کوئی فکر نہ کریں۔پھر کہا میں رخصت دینے میں روک نہیں ڈالتا۔اگر آپ چاہیں تو پانچ دن سے زیادہ رخصت لے لیں۔چونکہ اس وقت مجھے غم اور تشویش تھی۔اور میں جلد قادیان پہنچنا چاہتا تھا۔اس لئے میں نے مسئلہ الہام وغیرہ پر بحث کو طول دینا مناسب نہ سمجھا۔اور رخصت لے کر رخت سفر باندھنے کے لئے اپنی رہائش گاہ پر آیا۔ابھی میں بستر وغیرہ تیار کر رہا تھا کہ لاہور سے مرسلہ تار آ گیا۔جس میں لکھا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور میں وفات پاگئے ہیں۔جنازہ قادیان لے جایا جا رہا ہے۔قادیان پہنچیں۔میں نے جب تار پڑھا تو یہ خیال کر کے کہ یہ انگریز الہام کا منکر ہے اس پر حجت کر آؤں۔دوبارہ کچہری گیا اور ڈپٹی کمشنر صاحب کو تار دکھا کر کہا کہ آپ الہام کے منکر تھے۔لیجئے اب یہ تار کے ذریعہ سے بھی اس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ڈپٹی کمشنر صاحب تار دیکھ کر حیرت زدہ ہو گئے اور منہ