اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 230 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 230

۲۳۰ محترم قاضی محمد عبد اللہ صاحب نے خاکسار محمد احمد کو میرے والد مرحوم کا یہ خط ۱۹۴۱ء میں دیا تھا۔جو کہ ان کے والد حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہی اپنے ذوق کی بنا پر محفوظ کر لیا تھا۔اس خط پر تاریخ نہیں۔لیکن والد صاحب کے چا حافظ احمد اللہ صاحب تحصیلدار کی تازہ وفات کا ذکر ہے۔جو ۱۸۹۱ء میں ہوئی۔اس لئے یہ خط ۱۸۹۱ء کے قریب کا ہے۔اس خط میں دو دعائیں ہیں۔ایک تو یہ کہ اے خدا تو مجھے جب وفات دے تو مسیح موعود علیہ السلام کے قدموں میں وفات دے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جب کہ ۲۰ اگست ۱۹۴۱ء کو مرحوم مقبرہ بہشتی قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام السلام کے قرب میں مدفون ہوئے۔دوسری دعا یہ تھی کہ خدا تعالیٰ حضور کی تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے۔اور ایسا تو ضرور ہو گا مگر اے خدا مجھے بھی تو دکھا۔اس انتہائی دردمندانہ آرزو کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے پورا کیا۔کیونکہ ۱۹۴۱ء تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ دنیا کے کناروں تک پہنچی ہوئی تھی۔بچشم خود دیکھ کر مرحوم کا وصال ہوا۔حالانکہ ۱۸۹۱ء میں یہ سلسلہ ایک بیج کی طرح تھا جو ۱۹۴۱ء تک سارے جہاں پر سایہ فگن شجرہ طیبہ بن چکا تھا۔حضرت منشی صاحب کا رسم الخط محفوظ کرنے کے لئے اس مکتوب کا چربہ ذیل میں دیا جاتا ہے۔آپ کے رسم الخط کا ایک مختصر نمونہ موقر الحکم مورخہ ۳۸۔۳۔میں بھی مندرج ہے۔سابق مبلغ انگلستان۔ہیڈ ماسٹر مدرسہ تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان و ناظر ضیافت، یکے از ۳۱۳ صحابه الہام حضرت مرزا سلطان احمد صاحب مکرم مولوی برکات احمد صاحب را جیکی قادیان بیان کرتے ہیں کہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب نے بیان فرمایا کہ جب سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہوا تو لاہور