اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 229 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 229

۲۲۹ تھے۔اب میری زندگی بالکل تلخ ہے اور ہر طرح کا دن رات فکر مجھ کو رہتا ہے۔معاش کا فکر بھی ابھی ہوا ہے۔پہلے مجھے خیال بھی نہیں تھا۔حضور پر میرا حال سب روشن ہے۔مجھ کو دعاؤں کی اشد ضرورت ہے اور اب میری وہ حالت ہے کہ میرے لئے حضور دعا فرما ئیں اور برکت وطفیل آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم خدا مجھ پر رحم کرے۔اور میرے غم دور کر کے اپنا فضل خاص مجھ پر کرے۔میرے لئے خصوصاً دعا فرمائیں۔میں نے ایک خواب دیکھا ہے کہ بہت سے آدمی حضور کی خدمت میں حاضر ہیں۔اور میری ایک چچی شمس النساء جواب پچاس برس کی ہوں گی۔وہ حضور کے سامنے مؤدب بیٹھی ہوئی ہیں۔لیکن ان کی عمر جوان ہے۔اور وہ نہایت ہی فربہ اندام اور حد درجہ کی حسین ہیں۔حضور نے ان کو ارشاد فرمایا کہ سورۃ 'دھڑ پڑھو۔وہ یہ سن کر بہ تعمیل ارشاد پڑھنے کے لئے دست بدستہ کھڑی ہو گئیں پھر میری آنکھ کھل گئی۔میرے چچا تحصیلدار تھے جو فوت ہو گئے ہیں۔خدا ان کو بخشے۔اور بھی کئی خواب مجھ کو آئے اور سب میں میں نے آنحضور علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا کہ حضور مجھے پر بہت ہی مہربان ہیں اور نہایت ہی شفقت فرماتے ہیں۔اور میری تکلیف مبدل به راحت اور میرا رنج مبدل بخوشی ضرور اور عنقریب ہونے والا ہے۔صرف حضور کی دعا کرنے کی دیر ہے۔اسی وجہ سے اب تک التوا میں پڑا ہوا ہوں۔ہمارے دینی اور دنیاوی امور اللہ جل شانہ نے حضور سے وابستہ کر دیئے ہیں۔اب حضور کو اختیار ہے۔میں دعاؤں کا سخت محتاج ہوں۔خدا حضور کی ہدایتوں اور برکتوں کو زمین کے کناروں تک پہنچا دے۔ایسا تو ضرور ہوگا۔مگر اے خدا تو مجھ کو بھی دکھلا۔آمین یارب العلمین آمین۔حضور کا نا چیز حقیر غلام خاکسار ظفر احمد از کپورتھلہ