اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 228 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 228

۲۲۸ خدمت میں عرض کر کے دریافت کیا۔آیا اتنا ہی کھانا تیار کروں یا زیادہ تو حضور نے فرمایا کیا تم خدا تعالیٰ کا امتحان کرنا چاہتے ہو۔اللہ تعالیٰ نے اس وقت عزت رکھ لی۔اب تم زیادہ کھانا تیار کرو۔“ (بیان حاجی صاحب موصوف ) دعا کی قبولت ذیل میں والد صاحب کا ایک خط درج کیا جاتا ہے۔جو محترم قاضی محمد عبداللہ صاحب ( سابق ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول ) نے خاکسار محمد احمد کو ۱۹۴۱ء میں دیا۔جسے ان کے والد مرحوم حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہی اپنے ذوق کی بناء پر محفوظ کر لیا تھا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَّلِى عَلَى رَسُولِهِ الكَريم روحی فداک یا روح الله صلعم السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ ! جب تک حضور کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل رہا۔کچھ خبر نہ تھی کہ دنیا کہاں بسی ہے اور دنیا کے فکر اور غم کیسے ہوتے ہیں۔خدا جانتا ہے کہ حضور کی خدمت میں حاضر رہنے سے میری ایسی حالت تھی کہ اگر خوش قسمتی سے میری موت ان ایام میں آجاتی۔تو میں خدا کی طرف ایسا پاک وصاف ہوکر جاتا جیسا کہ حضور کا اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اور جناب باری کا منشاء ہے اے خدا تو مجھ کو جب مارے تو مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے قدموں میں ماریو آمین یارب العلمین اب میں جب سے یہاں آیا ہوں تو رفتہ رفتہ پھر انھیں ترددات و تفکرات دنیویہ میں مبتلا ہو گیا۔میرے آقا و مولیٰ پہلے میری حالت بہت ہی اچھی تھی۔گو میرا متوکلا نہ گزارہ قدیم سے ہے۔لیکن مجھ کو دنیوی تفکرات نہیں ستاتے