اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 15 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 15

۱۵ کہنے لگے کہ یہ جسد خا کی یہاں دفن ہونا باقی ہے۔خاکسار کی آمد ورفت بچپن سے ہی قادیان میں بہت تھی اس لئے منشی اروڑا صاحب مجھ سے بہت محبت کرتے تھے۔میں نے قانون کا امتحان دینا تھا۔منشی صاحب سے دعا کے لئے عرض کی۔فرمانے لگے بہت اچھا دعا کروں گا۔میرا ایک اور دوست طالبعلم تھا اس نے کہا میرے لئے بھی دعا فرمائیں۔منشی صاحب نے کچھ مجبوری سی محسوس کر کے فرمایا کہ نہیں بھئی۔میں ایک سے وعدہ کر چکا ہوں دعا کرنے میں انسان ذبح ہو جاتا ہے۔حلال ہو جاندا ہے۔یہ منشی صاحب کے الفاظ تھے۔غرضیکہ دعا کے بارے میں اور ایفائے وعدہ کے متعلق منشی صاحب کا یہ نمونہ بہت غور کے قابل ہے۔منشی صاحب ہجرت کر کے قادیان میں رہنے لگ گئے تھے اور بہت کم کپورتھلہ میں جاتے تھے۔ایک دفعہ کپورتھلہ تشریف لے گئے جمعہ کا دن تھا۔دوستوں نے کہا کہ آپ خطبہ پڑھیں۔منشی صاحب نے اعراض کیا اور دوستوں نے اصرار۔طوعاً و کرہاً خطبہ کے لئے کھڑے ہو گئے لیکن چونکہ منشی صاحب کی طبیعت بہت بے لاگ اور صاف گو تھی۔اس لئے خطبہ کیا تھا ایک شمشیر برہنہ تھی۔فرمانے لگے۔او کم بختو ! تم مجھے خطبہ پڑھنے کو کہتے ہو۔اور میں تمہاری شکلوں سے بیزار ہوں۔سلسلہ کے کاموں اور چندوں میں سست ہو گئے ہو۔ہماری روایات کو قائم نہ رکھ سکے۔میں تم سے بہت ناراض ہوں۔سیدھے ہو جاؤ اور صاف ہو جاؤ۔اور کھرے ہو جاؤ۔غرض اس قسم کا خطبہ بغیر لاگ لپیٹ کے منشی صاحب نے پڑھا۔چونکہ بزرگ تھے اور ان کا اپنا نمونہ سامنے تھا۔اس لئے ہر شخص متأثر اور نادم تھا۔گو یہ مضمون والد صاحب کی سیرت کے متعلق ہے لیکن آپ کے ساتھیوں کا ذکر بھی گویا آپ ہی کا ذکر اور آپ کے ماحول کا بیان ہے۔غرض یہ ہے کہ اچھی باتیں ان بزرگوں کی درج ہو جائیں۔مقصد آم کھانے سے ہے نہ کہ پیر گننے سے شعر وسخن کی مجالس اور کپورتھلہ کے کوائف سے۔کپورتھلہ میں شعر و سخن کا بڑا چر چا تھا۔وجہ یہ کہ ابتداء سے ہی یو۔پی کے ہیں چھپیں