اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 205 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 205

۲۰۵ کہ آپ سحری کے وقت دوستوں کو ایسا کھانا دیتے ہیں۔یہاں ہمارے جس قد ر ا حباب ہیں وہ سفر میں نہیں۔ہر ایک سے دریافت کرو کہ ان کو کیا کیا چیز کھانے کی عادت ہے۔اور وہ سحری کو کیا کیا چیز پسند کرتے ہیں۔ویسا ہی کھانا ان کے لئے تیار کیا جائے۔پھر منتظم میرے لئے اور کھانا لایا۔مگر میں کھانا کھا چکا تھا۔اور اذان بھی ہو گئی تھی۔حضور نے فرمایا اذان جلد دی گئی ہے اس کا خیال نہ کرو۔۱۰۴۔ایک دفعہ میں نے رمضان شریف میں قادیان سے گھر آنے کا ارادہ کیا۔حضور نے فرمایا نہیں سارا رمضان یہیں رہیں۔میں نے عرض کیا حضور ایک شرط ہے حضور کے سامنے کا جو کھانا ہو وہ میرے لئے آجایا کرے۔آپ نے فرمایا بہت اچھا۔چنانچہ دونوں وقت حضور برابر اپنے سامنے کا کھانا مجھے بھجواتے رہے۔لوگوں کو بھی خبر ہوگئی۔اور وہ مجھ سے چھین لیتے۔وہ کھانا بہت سا ہوتا تھا۔کیونکہ حضور بہت کم کھاتے تھے۔ہو ۱۰۵۔ایک دفعہ میں اور منشی اروڑا صاحب مرحوم قادیان گئے۔منشی اروڑا صاحب اس وقت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے سرشتہ دار تھے اور میں اپیل نویس تھا۔باتوں باتوں میں میں نے عرض کی کہ حضور مجھے اپیل نولیس ہی رہنے دینا ہے۔فرمایا کہ اس میں آزادی ہے۔آپ ایک ایک دو دو ماہ ٹھہر جاتے ہیں۔پھر خود ہی فرمایا ایسا ہو کہ منشی اروڑ ا صاحب کہیں اور چلے جائیں ( مطلب یہ کہ کسی اور آسامی پر ) اور آپ ان کی جگہ سرشتہ دار ہو جائیں۔اس سے کچھ مدت بعد جب کہ حضور علیہ السلام کا وصال ہو چکا تھا۔منشی اروڑا صاحب تو نائب تحصیلدار ہو کر تحصیل بھنگہ میں تعینات ہو گئے۔اور میں ان کی جگہ سرشتہ دار ہو گیا پھر منشی صاحب نائب تحصیلداری سے پنشن پاکر قادیان جارہے اور میں سرشتہ داری سے رجسٹراری ہائی کورٹ تک پہنچا۔اور اب پینشن پاتا ہوں۔بہت دفعہ ہم نے : سیرت المہدی جلد سوم نمبر ۷ ۷۸ میں آپ کا یہ حصہ روایت زائد ہے اور بیشتر حصہ سامنے سے اسی طرح اٹھ کر آجا تا تھا۔