اصحاب احمد (جلد 4) — Page 179
129 نے کہا مجھے کیا معلوم تھا کہ حضرت جی اندر بیٹھے ہیں۔۵۷ ہے۔ایک دفعہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی اپنے ایک رشتہ دار کو امرو ہے سے قادیان ہمراہ لائے۔وہ شخص فربہ اندام ۵۰۔۶۰ سال کی عمر کا ہوگا۔اور کانوں سے اس قدر بہرہ تھا کہ ایک ربڑ کی نلکی کانوں میں لگایا کرتا تھا اور زور سے بولتے تو وہ قدرے سنتا۔حضرت صاحب ایک دن تقریر فرما رہے تھے اور وہ بھی بیٹھا تھا۔اس نے عرض کی حضور مجھے بالکل سنائی نہیں دیتا میرے لئے دعا فرمائیں کہ مجھے آپ کی تقریر سنائی دینے لگے۔آپ نے دوران تقریر اس کی طرف روئے مبارک کر کے فرمایا کہ خدا قادر ہے۔اسی وقت اس کی سماعت کھل گئی اور وہ کہنے لگا حضور مجھے ساری تقریر آپ کی سنائی دیتی ہے۔اور وہ شخص نہایت خوش ہوا اور نلکی ہٹا دی۔اور پھر وہ سننے لگ گیا۔حمید ۷۵۔ایک دفعہ حضرت صاحب کو خارش ہوگئی۔اور انگلیوں کی کھائیوں میں پھنسیاں تھیں اور تر تھیں۔دس گیارہ بجے دن کے میں نے دیکھا تو آپ کو بہت تکلیف تھی۔میں تھوڑی دیر بیٹھ کر چلا آیا۔عصر کے بعد جب میں پھر گیا۔تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔میں نے عرض کی کہ خلاف معمول آج حضور کیوں چشم پرنم ہیں۔آپ نے فرمایا کہ میرے دل میں ایک خیال آیا کہ اے اللہ اس قدر عظیم الشان کام میرے سپرد ہے اور میری صحت کا یہ حال ہے۔اس پر مجھے پر ہیبت الہام ہوا کہ تیری صحت کا ہم نے ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔فرمایا کہ اس الہام نے میرے وجود کا ذرا ذرا ہلا دیا اور میں نہایت گریہ وزاری کے ساتھ سجدہ میں گر گیا۔خدا جانے کس قدر عرصہ مجھے سجدہ میں لگا۔جب میں نے سراٹھایا تو خارش بالکل نہ رہی اور مجھے اپنے دونوں ہاتھ حضور نے دکھائے کہ دیکھو کہیں پھنسی ہے۔میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی طرف سے یہ روایت سیرت المہدی حصہ سوم میں ۵۱۴ نمبر پر درج ہے۔اس میں یہ امر زائد ہے کہ وہ خوشی کے جوش میں کود پڑا اور نکی توڑ دی۔