اصحاب احمد (جلد 4) — Page 175
۱۷۵ ہوگا۔کیونکہ حافظ حامد علی سے حضور نے فرمایا کہ ذرا پانی کا لوٹا لے کر ہمارے ساتھ چلو۔وہاں قریب کے کنویں سے پانی لیا گیا۔اور آپ دور تشریف لے گئے حافظ صاحب کے ساتھ۔کیونکہ آپ کی عادت شریفہ تھی کہ راستے میں اگر پیشاب کرنے کی حاجت ہو جاتی تو اتنی دور چلے جاتے تھے جتنا کہ قضائے حاجت کے لئے جاتے ہیں۔اس لئے میں نے سمجھا کہ پیشاب کرنے تشریف لے گئے ہیں وہاں جا کر آپ کو استنفراغ ہوا۔اور پانی سے منہ صاف کر کے تشریف لے آئے۔جب مجھے خیال آیا کہ پان میں زردہ تھا۔تو میں سخت نادم تھا۔آپ نے مجھے دیکھ کر ہنستے ہوئے فرمایا منشی صاحب آپ کے پان نے تو دوا کا کام کیا۔مجھے کچھ گرانی سی تھی بالکل رفع ہو گئی۔ہمیں ۶۴۔ایک دفعہ مولوی محمد احسن صاحب امروہی۔مولوی عبدالرحیم صاحب میر تھی اور چند اور احباب اور خاکسار حضور کے پاس بیٹھے تھے۔حضور نے ایک اردو عبارت سنا کر فرمایا کہ اس مضمون کی مجھے یاد ہے کہ تر ندی میں ایک حدیث ہے اور ترمذی شریف جو عربی میں تھی منگوا کر مولوی محمد احسن صاحب کو دی کہ اس میں سے نکالیں۔مولوی صاحب موصوف علم حدیث میں بہت کامل سمجھے جاتے تھے۔انہوں نے بہت دیر تک اسے دیکھ کر فرمایا کہ حضور اس میں تو یہ حدیث نہیں ہے۔آپ نے موقر الحکم مورخہ ۷ اپریل ۳۴ ء میں حضرت منشی صاحب کی اس روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ ” میں اپنی جگہ پانی پانی ہور ہا تھا اور ایک بے قراری میرے قلب میں تھی۔مگر آپ کی مسکراہٹ نے میری حالت کو بدل دیا بجائے اس کے مجھے کچھ ملامت کی جاتی ، میری ندامت کا احساس کر کے بالکل پہلو بدل دیا اور میرے پان کی خوبی بیان کرنے لگے۔یہ حضور کی دلداری کی ایک معمولی مثال ہے ورنہ حضور کی شفقت و رحمت کے اتنے واقعات ہیں کہ بیان نہیں ہو سکتے۔منشی صاحب جب یہ واقعات بیان کرتے تھے تو ان کی آنکھیں ڈبڈبائی ہوئی ہوتی تھیں۔آواز میں رقت تھی اور حضرت اقدس کی مہربانی اور شفقت کا احساس ان کے دل میں چٹکیاں لے رہا تھا۔۵۵