اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 160 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 160

17۔کے ساتھ جو کوٹھڑی ہے اس میں تشریف لے گئے اور حضور نے اور میاں نظام الدین نے کوٹھڑی کے اندر ایک ہی پیالہ میں کھانا کھایا اور کوئی اندر نہیں گیا۔جو لوگ قریب آکر بیٹھتے گئے تھے ان کے چہروں پر شرمندگی ظاہر تھی۔۴۳۔ایک دفعہ ایک صاحب مولوی عبدالرحیم ساکن میرٹھ قادیان آئے ہوئے تھے۔حضرت سے تین دن تک ان کی ملاقات نہ ہوسکی۔وجہ یہ تھی کہ جب حضور مسجد مبارک میں بیٹھتے تو عبدالرحیم صاحب تکلف اور آداب کے خیال سے لوگوں کو ہٹا کر اور گزر کر قریب جانا نا پسند کرتے تھے۔میری یہ عادت تھی کہ بہر حال و بہر کیف قریب پہنچ کر حضور کے پاس جا بیٹھتا تھا۔عبدالرحیم صاحب نے مجھ سے ظاہر کیا کہ تین دن سے ملاقات نہیں ہوسکی۔چنانچہ میں نے حضرت صاحب سے یہ بات عرض کی حضور ہنس کر فرمانے لگے کہ کیا یہ آپ سے ( خاکسار سے ) سبق نہیں سیکھتے۔اور پھر انہیں فرمایا کہ آجائیے۔چنانچہ ان کی ملاقات اس طرح ہو گئی۔۴۴۔ایک دفعہ دو شخص منی پور آسام سے قادیان آئے اور مہمان خانہ میں آکر انہوں نے خادمان مہمان خانہ سے کہا کہ ہمارے بستر اتارے جائیں اور سامان لایا جائے۔چارپائی بچھائی جائے۔خادموں نے کہا آپ خود اپنا اسباب اتروائیں۔چار پائیاں بھی مل جائیں گی۔دونوں مہمان اس بات پر رنجیدہ ہو گئے اور فوراً یکہ میں سوار ہوکر واپس روانہ ہو گئے۔میں نے مولوی عبدالکریم صاحب سے یہ ذکر کیا تو مولوی صاحب فرمانے لگے جانے بھی دو ایسے جلد بازوں کو۔حضور کو اس واقعہ کا بقیہ حاشیہ: الحکم مورخہ ۷ اپریل ۱۹۳۴ء میں حضرت منشی صاحب کی روایت میں یہ عبارت زائد ہے کہ: حقیقت یہ ہے کہ آپ اپنے احباب کی دل شکنی کو پسند نہ فرماتے تھے اور نہایت بے تکلفی اور سادگی سے ایسے اعمال آپ سے سرزد ہوتے تھے۔مؤلف اصحاب احمد