اصحاب احمد (جلد 4) — Page 151
۱۵۱ پڑھنے کی عادت ڈالو۔جب تک میں حضور کے پاس بیٹھا رہا۔میری حالت دگرگوں ہوتی رہی اور میں روتا رہا۔اور ایسی حالت میں اقرار کر کے کہ میں استغفار اور نماز ضرور پڑھا کروں گا۔آپ کی اجازت لے کر آ گیا۔وہ اثر میرے دل پر اب تک ہے۔( انتھی کلام کرنیل صاحب ) چونکہ کرنیل صاحب بہت آزاد طبع آدمی تھے۔اس واقعہ سے دو تین سال بعد ایک دفعہ مجھے ملے اور انہوں نے کہا کہ استغفار اور نماز میں نے اب تک نہیں چھوڑی۔یہ ضرور ہے کہ باہر اگر میں سیر کو چلا گیا۔اور نماز کا وقت آگیا۔تو میں چلتے چلتے نماز پڑھ لیتا ہوں۔ورنہ مقام پر نماز اور قرآن شریف پڑھتا ہوں۔ہاں دو وقت کی نمازیں ملا لیتا ہوں۔اور یہ بھی کرنیل صاحب نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ ۵۰ روپے حضور کو بھیجے اور مجھے اس کی خوشی ہوئی کہ حضور نے قبول فرمالئے۔’۲۹۔عبداللہ آتھم کی پیشگوئی کی میعاد کے جب دو تین دن رہ گئے۔تو محمد خاں صاحب مرحوم اور منشی اروڑا صاحب مرحوم اور میں قادیان چلے گئے اور بہت سے دوست بھی آئے ہوئے تھے۔سب کو حکم تھا کہ پیشگوئی کے پورا ہونے کے لئے دعائیں مانگیں۔مرزا ایوب بیگ مرحوم برادر ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب اس قدر گریہ وزاری سے دعا مانگتا تھا کہ بعض دفعہ گر پڑتا تھا۔گرمیوں کا موسم تھا۔محمد خان صاحب اور منشی اروڑا صاحب اور میں مسجد مبارک کی چھت پر سویا کرتے تھے۔آخری دن معیاد کا تھا کہ رات کے ایک بجے کے قریب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ ابھی الہام ہوا ہے کہ اس نے رجوع بق کر کے اپنے آپ کو بچالیا منشی اروڑا صاحب مرحوم نے مجھ سے ، محمد خاں صاحب سے اور اپنے پاس سے کچھ رویے لے کر جو ۳۰۔۳۵ کے کرنیل الطاف علی خان صاحب کا ذکر حضرت منشی صاحب کی طرف سے الحکم مورخہ ۲۱ فروری ۳۴ ۲۱۷۶ اپریل ۳۴ء میں درج ہے۔