اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 145 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 145

۱۴۵ عبداللہ صاحب سنوری بھی وہاں تھے۔مولوی صاحب نے میرے لئے جانے کی اجازت چاہی۔اور میں نے ان کے لئے۔حضور نے فرمایا کہ ابھی نہ جائیں۔اس عرصہ میں مولوی صاحب کو ان کے گھر سے لڑکے کی ولادت کا خط آیا۔جس پر مولوی صاحب نے عقیقہ کی غرض سے جانے کی اجازت چاہی۔حضور نے فرمایا اس غرض کے لیئے جانا لازمی نہیں۔آپ ساتویں دن ہمیں یاد دلا دیں۔اور گھر خط لکھ دیں کہ ساتویں دن اس کے بال منڈوا دیں۔چنانچہ ساتویں روز حضور نے دو بکرے منگوا کر ذبح کرا دیئے۔اور فرمایا۔گھر خط لکھ دو۔۲۳۔حضرت صاحب کو دوران سر کا عارضہ تھا۔ایک طبیب کے متعلق سنا گیا کہ وہ اس میں خاص ملکہ رکھتا ہے۔اسے بلوایا گیا کرایہ بھیج کر اور کہیں دور سے۔اس نے حضور کو دیکھا اور کہا کہ دو دن میں آپ کو آرام کر دوں گا۔یہ سن کر حضرت صاحب اندر چلے گئے اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کو رقعہ لکھا کہ اس شخص سے علاج میں ہرگز نہیں کرانا چاہتا۔یہ کیا خدائی کا دعویٰ کرتا ہے۔اس کو واپس کرایہ کے روپے اور مزید پچیس روپے بھیج دیئے کہ یہ دے کر اسے رخصت کر دو۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔۲۴۔لدھیانہ کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ دردسر کا دورہ حضور کو اس قدر ہوا کہ ہاتھ پیر برف کی مانند سرد ہو گئے۔میں نے ہاتھ لگا کر دیکھا اور نبض بہت کمزور ہوگئی آپ نے مجھے ارشاد فرمایا کہ اسلام پر کوئی اعتراض یا د ہو تو اس کا جواب دینے میں میرے بدن میں گرمی آجائے گی اور دورہ موقوف ہو جائے گا۔میں نے عرض کی کہ حضور اس وقت تو مجھے کوئی اعتراض یاد نہیں آتا۔فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت میں کچھ اشعار آپ کو یاد ہوں تو پڑھیں میں نے براہین احمدیہ کی نظم اے خدا اے چاره آزار ما