اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 123 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 123

۱۲۳ حاصل عشق و وفا سرمایه صدق و صفا دوست زو خوشنود او خوشنود اندر کارِ دوست بود در جنگِ مقدس نیز در و کا شب تقریر یار ھمانا قاصد طیار دوست در سفرها همرکاب و در حضر ہا ہم قریں دوست آسا بهره دراز اندک و بسیار دوست بس مجھے را معاون بس نشانی را گواه سية أو سر بسر گنجینه اسرار اسرار دوست زنده تاریخ جماعت از سر آغاز کار حاصل آثار و خود هم نیز از آثارِ دوست بس دقیق الفہم پر اخلاص مردِ حق شناس از برایش * هم چنیں بوداست خود اظهار دوست جنگ مقدس ما بین حضرت مسیح موعود علیہ السلام عبد اللہ آتھم در امر تسر۔نیز در دہلی۔مولوی نذیر حسین صاحب سے مطالبہ حلف در جامع مسجد دہلی۔اس موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مرحوم کو اپنا قاصد بنا کر بھیجا تھا نیز بموقعہ مباحثہ ہمراہ محمد بشیر صاحب بھوپالوی مرحوم نے کتب مطلوبہ مہیا کر کے حضور کی خدمت میں پیش کی تھیں۔۱۳ آغاز کار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے آپ کا تعلق ۱۸۸۴ء تا ۱۸۸۵ء کے قریب قائم ہوا۔کئی دفعہ بیعت کیلئے عرض کرنے پر حضور فرماتے مجھے حکم نہیں۔پھر ۱۸۸۹ء میں بیعت اولی کے موقعہ پر حضور نے طلب فرمایا اور آپ لدھیانہ پہنچ کر فوراً بیعت کی۔۱۸۹۰ ء میں آپ نے حضرت صاحب کو ایک خط لکھا: ''اے خدا! تو مجھ کو جب مارے تو مسیح کے قدموں میں ماریو۔نیز اسی خط میں لکھا : خدا حضور کی ہدایتوں اور برکتوں کو زمین کے کناروں تک پہنچائے۔ایسا تو ضرور ہو گا مگر اے خدا ! تو مجھ کو بھی دکھلا۔آمین یا رب العلمین۔آمین۔“ یہ دونوں دعائیں قبول ہوئیں جبکہ آپ ۲۰ اگست ۱۹۴۱ء کو سلسلہ حقہ کی ترقیات کو زمین کے کناروں تک پہنچا ہوا دیکھ کر بہشتی مقبرہ میں قطعہ صحابہ میں تربت گزیں ہوئے۔بیس سال کی عمر میں رفاقت اختیار کی۔تقریباً ہر سفر میں حضور کے ساتھ رہے۔ساٹھ