اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 117 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 117

112 میں تھیں۔کام بند ہو گیا اور سخت خطوط آنے لگے۔مگر یہاں یہ حالت تھی کہ ان خطوط کے متعلق وہم بھی نہ آتا تھا۔حضور کی صحبت میں ایک ایسا لطف اور محویت تھی کہ نہ نوکری کے جانے کا خیال تھا۔اور نہ کسی باز پرس کا اندیشہ۔آخر ایک نہایت ہی سخت خط وہاں آیا۔میں نے وہ خط حضرت کے سامنے رکھ دیا۔پڑھا اور فرمایا۔لکھ دو ہمارا آنا نہیں ہوتا۔میں نے وہی فقرہ لکھ دیا اس پر ایک مہینہ اور گذر گیا۔تو ایک دن فرمایا۔کتنے دن ہو گئے۔پھر آپ ہی گننے لگے۔اور فرمایا۔اچھا آپ چلے جائیں۔میں چلا گیا۔اور کپورتھلہ پہنچ کر لالہ ہر چرن داس مجسٹریٹ کے مکان پر گیا تا کہ معلوم کروں کیا فیصلہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا۔منشی جی آپ کو مرزا صاحب نے نہیں آنے دیا ہوگا۔میں نے کہا کہ ہاں۔تو فرمایا ان کا حکم مقدم ہے۔”میاں عطاء اللہ صاحب کی روایت میں اس قدر زیادہ ہے کہ منشی صاحب مرحوم نے فرمایا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ لکھ دو ہم نہیں آسکتے۔تو میں نے وہی الفاظ لکھ کر مجسٹریٹ کو بھجوادیے۔یہ ایک گروہ تھا جس نے عشق کا ایسا اعلیٰ درجہ کا نمونہ دکھایا کہ ہماری آنکھیں اب پچھلی جماعتوں کے آگے نیچی نہیں ہوسکتیں۔ہماری جماعت کے دوستوں کی کتنی ہی کمزوریاں ہوں۔کتنی ہی غفلتیں ہوں۔لیکن اگر موسیٰ کے صحابی ہمارے سامنے اپنا نمونہ پیش کریں تو ہم ان کے سامنے اس گروہ کا نمونہ پیش کر سکتے ہیں۔اسی طرح عیسی کے صحابی اگر قیامت کے دن اپنے اعلیٰ کارنامے پیش کریں۔تو ہم فخر کے ساتھ ان کے سامنے اپنے ان صحابہ کو پیش کر سکتے ہیں۔اور یہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ میری امت اور مہدی کی امت میں کیا فرق ہے۔میری امت زیادہ بہتر ہے یا مہدی کی امت زیادہ بہتر تو در حقیقت ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے فرمایا ہے۔یہ وہ لوگ تھے جو ابو بکر