اصحاب احمد (جلد 4) — Page 114
۱۱۴ آکر ملے۔کپورتھلہ کی جماعت میں سے منشی اروڑے خان صاحب۔منشی ظفر احمد صاحب اور منشی محمد خاں صاحب جب بھی آتے تھے تو ان کے آنے سے ہمیں بڑی خوشی ہوا کرتی تھی۔غرض اس دوست نے بتایا کہ منشی اروڑے خان صاحب تو ایسے آدمی ہیں کہ یہ مجسٹریٹ کو بھی ڈرا دیتے ہیں۔پھر اس نے سنایا کہ ایک دفعہ انہوں نے مجسٹریٹ سے کہا میں قادیان جانا چاہتا ہوں مجھے چھٹی دے دیں اس نے انکار کر دیا۔اس وقت وہ سیشن جج کے دفتر میں لگے ہوئے تھے۔انہوں نے کہا قادیان میں میں نے ضرور جانا ہے۔مجھے آپ چھٹی دے دیں۔وہ کہنے لگا کام بہت ہے۔اس وقت آپ کو چھٹی نہیں دی جاسکتی۔وہ کہنے لگے بہت اچھا آپ کا کام ہوتا رہے۔میں تو آج سے ہی بددعا میں لگ جاتا ہوں۔آپ اگر نہیں جانے دیتے تو نہ جانے دیں۔آخر اس مجسٹریٹ کو کوئی ایسا نقصان پہنچا کہ وہ سخت ڈر گیا۔اور جب بھی ہفتہ کا دن آتا تو وہ عدالت والوں سے کہتا کہ آج کام ذرا جلدی بند کر دینا۔کیونکہ منشی اروڑے خان صاحب کی گاڑی کا وقت نکل جائے گا۔اس طرح وہ آپ ہی جب بھی منشی صاحب کا ارادہ قادیان آنے کا ہوتا انہیں چھٹی دے دیتا اور وہ قادیان پہنچ جاتے۔پھر ان کی محبت کا یہ نقشہ بھی مجھے کبھی نہیں بھولتا۔جو گو انہوں نے مجھے خود ہی سنایا تھا مگر میری آنکھوں کے سامنے وہ یوں پھرتا رہتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے وقت میں بھی وہیں موجود تھا۔انہوں نے سنایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک دفعہ ہم نے عرض کیا کہ حضور بھی کپورتھلہ تشریف لائیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وعدہ فرمالیا کہ جب فرصت ملی تو آ جاؤں گا وہ کہتے تھے ایک دفعہ کپورتھلہ میں میں ایک دوکان پر بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شدید ترین دشمن اڈے کی طرف سے آیا اور مجھے کہنے لگا تمہارا مرزا کپورتھلہ آگیا ہے۔معلوم ہوتا