اصحاب احمد (جلد 4) — Page 107
1+6 کے چا حضرت عباس کی برکت سے تجھ سے دعا مانگتے ہیں۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے۔ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی تو ابھی آپ نے اپنے ہاتھ نیچے نہیں کئے تھے کہ بارش برسنی شروع ہوگئی۔اب حضرت عباس خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی عہدے پر قائم نہیں کئے گئے تھے ان کا تعلق صرف یہ تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے۔اور جس طرح بارش جب برستی ہے تو اس کے چھینٹے اردگرد بھی پڑ جاتے ہیں۔بارش صحن میں ہو رہی ہوتی ہے تو برآمدہ وغیرہ بھی گیلا ہو جاتا ہے۔اسی طرح خدا کا نبی ہی اس کا نبی تھا مگر اس سے تعلق رکھنے والے اس کی بیویاں اس کے بچے۔اس کی لڑکیاں۔اس کے دوست اور اُس کے رشتہ دار سب ان برکات سے کچھ نہ کچھ حصہ لے گئے۔جو اس پر نازل ہوئی تھیں۔کیونکہ یہ خدا کی سنت اور اس کا طریق ہے کہ جس طرح بیویاں بچے اور رشتہ دار برکات سے حصہ لیتے ہیں اسی طرح وہ گہرے دوست بھی برکات سے حصہ لیتے ہیں جو نبی کے ساتھ اپنے آپ کو پیوست کر دیتے ہیں یہ لوگ خدا کی طرف سے ایک حصن حصین ہوتے ہیں اور دنیا ان کی وجہ سے بہت سی بلاؤں اور آفات سے محفوظ رہتی ہے۔مجھے جو شعر بے انتہاء پسند ہیں۔ان میں سے چند شعر وہ بھی ہیں جو حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے وقت ایک مجذوب نے کہے تاریخوں میں آتا ہے کہ حضرت جنید بغدادی جب وفات پاگئے تو ان کے جنازہ کے ساتھ بہت بڑا ہجوم تھا۔اور لاکھوں لوگ اس میں شریک ہوئے اس وقت بغداد کے قریب ہی ایک مجذوب رہتا تھا۔بعض لوگ اسے پاگل کہتے۔اور بعض ولی اللہ سمجھتے۔وہ بغداد کے پاس ہی ایک کھنڈر میں رہتا تھا۔کسی سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا اور نہ لوگوں سے بات چیت کرتا۔مگر لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ جب جنازہ اٹھایا گیا تو وہ بھی ساتھ ساتھ تھا۔راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا وہ نماز جنازہ میں شریک ہوا۔قبر تک ساتھ