اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 102 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 102

١٠٢ جہاں تک میرا تجربہ ہے کینہ رکھنے کے لحاظ سے وہ مولوی محمد علی صاحب سے کم تھے۔اور یوں ان کی ناراضگی غالباً مولوی محمد علی صاحب سے بھی زیادہ پہلے کی تھی۔مگر میں نے دیکھا ہے ان پر کبھی کبھی ایک دورہ آتا تھا۔جو روحانیت کے رنگ کا ہوتا تھا۔مولوی محمد علی صاحب کی طرح اُن کا فلسفیانہ مذاق نہیں تھا۔وہاں مولوی محمد علی صاحب تھے۔ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب تھے۔مرزا یعقوب بیگ صاحب تھے۔اور یہ سب آپس میں اس موضوع پر باتیں کر رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کا کتنا گزارہ ہونا چاہیئے کوئی کہتا کہ اتنا گذارہ ہونا چاہیئے اور کوئی کہتا کہ اتنا نہیں ہونا چاہیئے۔کوئی اخبار یا کوئی کتاب تھی جو خواجہ کمال الدین صاحب اس وقت لے کر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کی توجہ اسی اخبار یا کتاب کی طرف تھی۔میں حیران تھا کہ خواجہ صاحب کو تو اس بحث میں زیادہ حصہ لینا چاہیئے تھا۔مگر کیا بات ہے کہ وہ خاموش ہیں۔کوئی ہیں منٹ یا نصف گھنٹہ باتیں ہوتی رہیں۔اور میں اپنے دل میں کڑھتا رہا۔اتنے میں یکدم خواجہ صاحب نے اپنے منہ کے آگے سے وہ کتاب یا اخبار جو چیز بھی تھی ہٹا دی اور میں نے دیکھا کہ ان کا رنگ اس وقت متغیر تھا۔پھر وہ سر اٹھا کر ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے ”یا رو کوئی بات بھی ہو۔اس بات کو تم یاد رکھو کہ جو کچھ سلوک آج ہم حضرت مرزا صاحب کے بیوی بچوں سے کریں گے۔ہماری اولاد سے بھی خدا تعالیٰ وہی سلوک کرے گا۔” میں نے جب ان کا یہ فقرہ سنا تو میرے ذہن میں یہ بات اسی وقت میخ کی طرح گڑ گئی کہ یہ بات خواجہ صاحب کی اولا دکو د نیوی لحاظ سے بچالے گی۔چنانچہ ان کی اولاد کے لئے خدا تعالیٰ نے غیر معمولی طور پر ایسے سامان پیدا فرمائے جنہیں سارا پنچاب غیر معمولی قرار دیتا ہے۔وہ اگر اس کی قدر کریں تو اور بھی ترقی کر سکتے ہیں۔ورنہ اللہ تعالیٰ نے