اصحاب احمد (جلد 3) — Page 87
۸۷ میں گر گئے اور بڑی دیر تک دُعا کی جس کے بعد وہ صحت یاب ہو گئیں۔دوبارہ سرکاری ملازمت کرنا آپ نے رقم فرمایا: 1911ء میں ایک روز میری بڑی ہمشیرہ فیض بتول مرحومہ نے حضرت خلیفہ اول کے حضور عرض کیا کہ بھائی سرکاری نوکری چھوڑ کر آ گیا ہے اور اب گذارہ بڑی تنگی سے ہوتا ہے۔قادیان میں تنخواہ کم ہے۔اور کنبہ زیادہ ہے۔آپ ان کو مشورہ دیں دریافت کرنے پر میں نے حالات عرض کئے۔فرمایا کہ کیا کوئی افسر واقف ہے۔اور ایجاب میں جواب دینے پر فرمایا۔اس کو لکھو اور ملازمت کے لئے کوشش کرو۔اور اس کے ساتھ ہی حضرت مولوی غلام محمد صاحب امرتسری اور حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری شاگردان خاص کی طرف اشارہ کر کے عجیب انداز اور جلال کے ساتھ فرمایا ہم تو ایسے لوگوں کو پسند کرتے ہیں اور ان کی محبت ہم جنت میں ساتھ لے جائیں گے (مفہوم) خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ مراد یہ ہوگی کہ اس قسم کے لوگ جو ہر تنگی ترشی میں گزارہ کر سکیں اور فدائیت اور بے قے کا ایک خاص مقام رکھتے ہوں ہے۔چنانچہ میں نے اپنے ایک افسر کو نوشہرہ خط لکھا شاید دو روز میں ہی مجھے اس کا تار ملا کہ فورا نوشہرہ حاضر ہو کر رپورٹ کروں تار دکھلانے پر حضور خوش ہوئے اور اجازت دی میں نفسی نوشہرہ پہنچا تو فوراً چکدرہ بھجوایا گیا۔پھر در گئی۔پھر مالا کنڈ اور پھر چکدرہ بھیجا گیا۔قلعہ چکدرہ میں میں بطور نائب سٹور کیپر کام کرتا تھا۔میری شہرت ہو چکی تھی کہ احمدی ہوں اور احمد یوں کو لوگ مرزائی مرزائی کہتے اور کافر جانتے تھے۔اس لئے وہاں کے نان بائی نے جو پٹھان تھا روٹی نہ دی اور جس آدمی کو میں نے روٹی لینے کے لئے بھیجا تھا کہ دیا کہ ہم اس کو روٹی نہیں دیں گے جب روٹی لانے والا وا پس آیا تو کافی رات ہو چکی ل استاذی المحترم حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری مدرس مدرسه احمد یہ قادیان بعد تقسیم ملک ربوہ میں فوت ہوئے۔قریب کی اصحاب احمد کی ایک جلد میں آپ کے حالات شائع ہوں گے۔بتوفیقہ تعالیٰ