اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 69 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 69

۶۹ گا۔خاکسار کا یقین ہے کہ خاکسار کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت غلامی سے یہ عزت اور برکت حاصل ہوئی۔خاکسار قریباً چھ سال کا تھا کہ غالباً ۱۸۸۹ء میں والد ماجد انتقال فرما گئے۔آپ تجارت کرتے تھے مجھے یاد ہے کہ آپ کی وفات پر آپ کی دوکان سے کتاب پند نامہ عطار نکلی جس کو میں بڑے شوق سے پڑھتا تھا۔والدہ ماجدہ بتاتی تھیں کہ تمہارے والد تجد گزار اور بڑے عبادت گزار تھے۔نماز تہجد مسجد میں جا کر پڑھتے تھے۔میں نے بٹالہ میں پانچویں جماعت تک گورنمنٹ ہائی سکول میں اور پھر چھٹی سے نویں تک مشن ہائی سکول میں تعلیم پائی۔مڈل میں کامیابی کے بعد ایک ہندو ہائی سکول میں داخلہ لیا۔لیکن میٹرک کے امتحان میں کامیابی نہ ہوئی پھر امرتسر میں مخدومی محسنی جناب شیخ محمد عمر صاحب بیرسٹر کی مدد سے ایک کمرشل سکول میں داخلہ لیا۔لیکن محنت نہ کرنے کی وجہ سے کامیابی نہ ہوئی۔پھر دہلی میں ”اے۔برکت اینڈ کمپنی میں ملازمت ملی مگر دہلی کی مرچوں سے تنگ آکر میں ملازمت چھوڑ آیا اور اپنے طور پر امتحان دے کر ۱۹۰۱ء میں میٹرک کے امتحان میں کامیاب ہوا۔۱۹۰۱ء تا ۱۹۰۳ء میں مختلف مقامات پر ملازم رہا۔۱۹۰۴ء میں آبزرور پریس لاہور میں بطور پروف ریڈر ملازم ہو گیا۔یہاں سے بھی دل برداشتہ ہو کر ملتان چلا گیا۔اور افریقہ جانے کے خیال سے کراچی گیا۔چونکہ افریقہ جانے کی صورت نہ بنی اس لئے چند ماہ بعد۔ہانسی۔حصار۔سہارنپور ہوتا ہوا انبالہ چھاؤنی پہنچا وہاں مخدومی برادرم عطاء اللہ خان صاحب مرحوم تھے۔انہوں نے مجھے انبالہ چھاؤنی میں ملازم کرا دیا۔یہ غالباً ۱۹۰۵ ء کی بات ہے۔۱۹۰۶ء میں لاہور جانا پڑا۔پھر ہمارا یونٹ واپس انبالہ چھاؤنی گیا۔جہاں جنوری تا اپریل ۱۹۰۸ء قیام رہا۔ایک نہایت شریف انگریز مسٹر اے ڈبلیو ڈی ہیر نگٹن ہماری یونٹ کے کمان افسر ہو کر آئے۔حضرت چوہدری رستم علی صاحب کی زیارت ہوگئی اور ان سے بہت فیض حاصل کیا۔پھر کمان افسر کے ساتھ مئی میں کسولی پہاڑ پر جانے پر اپنے عزیز دوست اور بھائی ڈاکٹر غلام مصطفے صاحب کے ساتھ رہنے کا موقعہ ملا۔اور ڈاکٹر لعل دین صاحب کے ساتھ ملاقات ہوئی۔