اصحاب احمد (جلد 3) — Page 68
۶۸ ایک اور دست راست ڈاکٹر سید محمدحسین شاہ صاحب کا گفتگو میں ناطقہ بند کر دیا۔مشاورت میں کئی بار شریک ہوئے ارتداد ملکانہ کے وقت آپ نے وہاں بھی خدمت کی اور ایک خاص فریضہ سپرد ہونے پر آپ نے براہ راست حضرت خلیفہ ثانی کے ماتحت کام کیا۔انفاق فی سبیل اللہ کی توفیق پائی۔چندہ منارہ اسیح میں شرکت کے باعث آپ اور آپ کی زوجہ اول کے اسماء اس پر کندہ ہیں۔آپ دفتر اول کے تحریک جدید کے مجاہد ہیں۔وقف جدید کے چندہ میں حصہ لیتے رہے۔ارتداد ملکانہ کے موقعہ پر ممتاز طور پر مالی خدمت کی۔خلافت ثانیہ میں خصوصاً معروف وممتاز احباب میں شمار ہوتے رہے۔بعد پنشن مرکز سلسلہ میں وقف زندگی کی پیش کش کی۔اور اراضیات سندھ اور دفتر امانت کے تعلق میں آپ نے خدمات کیں۔خصوصاً بعد تقسیم برصغیر حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ارشاد پر صیغہ امانت صدر انجمن احمد یہ میں جو لاکھوں روپیہ اور زیورات وغیرہ کی امانتیں تھیں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی ہدایت پر آپ خاص تائید و نصرت الہی سے قادیان سے لاہور لے جانے میں کامیاب ہوئے۔خلفاء سلسلہ اور ابناء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علاوہ بزرگان سلسلہ کے ساتھ آپ کے گہرے مراسم تھے۔۳۰ اگست ۱۹۶۸ء کو ربوہ میں بھر چوراسی سال وفات پائی اور قطعہ خاص میں دفن ہوئے۔اللَّهُمَّ اغْفِرُ لَهُ وَارْحَمْهُ۔آمین خاندانی اور تعلیمی حالات آپ رقم فرماتے ہیں : خاکسار شیخ فضل احمد بٹالوی ولد شیخ علی بخش صاحب ولد شیخ گل محمد صاحب ولد شیخ غلام حسین صاحب، قوم لگتے زئی کی ولادت بمقام بٹالہ (ضلع گورداسپور ) غالبا ۱۸۸۳ء میں ہوئی تھی۔وہیں میں نے پرورش پائی۔والدہ مرحومہ بیان کرتی تھیں کہ تمہاری پہلی والدہ کے بطن سے تمہارے والد کی صرف لڑکیاں تھیں۔میرے ہاں بھی پہلے لڑکی فیض بتول نام ہوئی۔انہوں نے اپنے مُرشد کی خدمت میں (جو رتر چھتر والے مشہور تھے اور بمقام دھرم کوٹ رندھاوا ضلع گورداسپور میں رہتے تھے۔اور ان کی تعریف حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمائی ہے ) اولاد نرینہ کے لئے درخواست دعا کی۔بعد دُعا مرشد موصوف نے بتلایا کہ تمہیں ایسا لڑکا ملے گا جو بڑی عزت اور برکت پائے