اصحاب احمد (جلد 3) — Page 67
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تعارف نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُوُد شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالہ میں پیدا ہوئے۔گندمی رنگ خوبرو کتابی چہرہ، مشرع داڑھی درمیانہ قد، پتلے دبلے سنجیدہ مزاج ہنس مکھ ، زیرک اور دلیر طبع۔جانبازی کی حد تک تبلیغ کے شائق تھے۔خصوصاً بنوں اور لاہور میں اس بارے میں خاص مساعی کیں۔اپنے انگریز افسران اور مسلم، ہندو وغیرہ عوام کو بھی پیغام احمدیت پہنچانے کا شغف تھا۔لاہور میں آپ سیکرٹری تبلیغ مقرر رہے۔حضرت خلیفہ اول کی مجالس میں کثرت سے بیٹھنے کے باعث حضور کی سیرت کے متعلق انمول باتیں کیں۔خلافت اولی سے ہی حضرت خلیفتہ اسیح الثانی سے گہرا رابطہ تھا۔آپ کی قائم کردہ مجلس انصار اللہ میں شامل ہوئے۔اور اس اسیح غیر مبائعین کی تردید میں شائع ہونے والے ٹریکٹوں میں آپ کا نام شامل تھا۔قیامِ خلافت ثانیہ پر غیر مبایعین کے سربراہ مولوی محمد علی صاحب کے نکسر اور دست راست ، ڈاکٹر بشارت احمد صاحب راولپنڈی میں تھے۔آپ نے ان کا اور ان کے رفقاء کا کامیاب مقابلہ کیا اور متعدد افراد کو مبائع بنایا۔لاہور میں مولوی محمد علی صاحب کے آپ سے متعدد مرتبہ حالات زندگی خاکسار مؤلف نے بالمشافہ طلب کئے۔فرماتے کہ لکھ کر رکھے ہوئے ہیں۔اور میں نے کہہ چھوڑا ہے کہ میری وفات کے بعد آپ کو دے دئے جائیں۔سواب آپ کے صاحبزادہ محترم ملک محمد احمد صاحب نے نقل کر کے بھجوائے ہیں۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء خاکسار نے ترتیب تبدیل کی ہے اور اکثر مقامات پر اصل عبارت کا خلاصہ دے دیا ہے یا مفہوم درج کیا ہے یا مفہوم سمجھ کر اسکی معمولی تفصیل بھی دے دی ہے جو عبارت سے مترشح ہوتی ہے۔آپنے اپنی سوانح عمری میں بعض باتوں کے متعلق خطوط وحدانی میں (مفہوم) لکھا ہے۔وہ اس اس جگہ اسی طرح درج کیا گیا ہے۔قریباً تمام حوالے خاکسار نے ایزاد کئے ہیں۔یہ بھی عرض ہے کہ سکے زکی قوم کے افراد ملک بھی کہلاتے ہیں اور شیخ بھی۔