اصحاب احمد (جلد 3) — Page 47
۴۷ سیلون میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دو تین افراد نے سفر کیا۔بابو صاحب نے یہ خیال کر کے کہ مبادا چوہدری صاحب ان سب احباب کے لئے ٹکٹ حسب قانون خرید نا بھول گئے ہوں اپنی طرف سے فرسٹ کلاس کے ٹکٹ خرید کر چوہدری صاحب محترم کی خدمت میں پیش کر دئے۔اس پر چوہدری صاحب نے بتلایا کہ وہ ٹکٹ پہلے ہی خرید چکے ہیں۔حکام بالا نے احراریوں کی اس شکایت پر کہ قادیان کے پوسٹ ماسٹر اور سٹیشن ماسٹر دونوں احمدی ہیں۔وہ تبلیغ کرتے ہیں اور احمدیوں کو نا جائز فائدہ پہنچاتے ہیں آپ کو نور پور روڈ ریلوے سٹیشن ضلع کانگڑہ تبدیل کر دیا۔ملازمت سے سبکدوش ہونے پر آپ دار البرکات قادیان میں رہائش پذیر ہوئے۔اور اعزازی طور پر نظارت امور عامہ میں شعبہ رشتہ ناطہ میں کام کرنے لگے۔لیکن کچھ عرصہ کے بعد صحت کی کمزوری کی وجہ سے آپ اس کام کو جاری نہ رکھ سکے۔ایک دفعہ نظارت تعلیم و تربیت کی طرف سے آپ کو علاقہ سرگودھا میں ایک جھگڑے کے نپٹانے کے لئے بھجوایا گیا تھا۔ہو حضرت ماسٹر عبدالرحمن صاحب ( سابق مہر سنگھ ) پر جو مقدمہ حضرت بابا نانک کے متعلق ایک کتاب کی وجہ سے دائر ہوا تھا۔آپ ان کی طرف سے پیروی کے لئے ہر پیشی پر جاتے تھے۔سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے۔“ کے آپ مصداق تھے۔دُور دُور کے اقارب کے رشتہ ناطہ کے آپ ہی ذمہ دار تھے۔اور اقارب بھی آپ کو پریشانی کے وقت : ۱۹۴۴-۴۵ء میں نظارت تعلیم تربیت کے ہیں اعزازی کارکنان میں آپ کا نام ( بطور مقیم دار البرکات قادیان) درج ہے ( رپورٹ سالانہ ص ۴۹ آپ چار سال تک امور عامہ میں کام کرتے رہے اور غالباً سارا عرصہ آپ انچارج شعبہ رشتہ ناطہ رہے۔(سالانہ رپورٹ ۴۰ - ۱۹۳۹ ء ص ۴۵ -۴۴ ۱۹۴۱-۴۲ء ( ص ۹۴-۸۵-۸۴) یہاں سابق سال کی کارکردگی بھی مذکور ہے ) ۴۳ - ۱۹۴۲ء (ص ۸۶) : حضرت ماسٹر صاحب کے حالات کے لئے دیکھئے اصحاب احمد جلد ہفتم۔