اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 30 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 30

میرے دستخط تھے اس لئے اس بابو نے میری منت کی تھی کہ میں اسکا نام نہ لوں۔کیونکہ قانونا وہ بری ہے میں نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ ابتداء میں میں اس کا نام نہ لوں گا۔لیکن اصل حالات ظاہر کرتے وقت مجھے سب کچھ بتانا پڑے گا۔قانون کی رو سے گاڑی اندر آجانے پر پچھلی بر یک خود دیکھنی چاہیے تھی۔کہ سگنل گذر آئی ہے نہ میں نے یہ دیکھا۔نہ کیبن مین - دریافت کیا۔نہ گارڈ سے ملا۔نہ لائن کیلیئر دیتے وقت کیبن مین کو اطلاع دی اور اس کی ساری وجہ میر لنگڑا پن تھا۔میں بار بار اُٹھ نہیں سکتا تھا۔قانونا میں مُجرم ہوں۔چونکہ میں نے تمام حالات صاف صاف بیان کر دئے ہیں۔اس لئے ریلوے قانون کی رُو سے جو انکوائری کمیٹی ضروری ہے وہ نہ بلائی جائے کہ اس سے سرکار کے مزید اخراجات ہوں گے۔اللہ تعالیٰ نے خود حادثہ سے لوگوں کو محفوظ رکھ لیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انگریز افسر کا دل پگھلا دیا اور اس نے انگریز سٹیشن ماسٹر سے کہا کہ مجھے بحال کر دے۔چنانچہ اس نے اگلے روز مجھے دفتر حاضر ہونے کا حکم دیا۔ہیڈ کلرک نے افسر کو بتایا کہ چونکہ یہ واقعہ سواری گاڑی کے متعلق ہے اس لئے بابو صاحب کو بحال کرنے کے مجاز ٹی ، الیس لاہور ہیں۔آپ نے جملہ تفصیل حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں تحریر کر کے دُعا کی درخواست کی اور خود با بو منظور الہی صاحب سے جو ٹیلیگراف افسر تھے ملنے گئے۔انہوں نے بتایا کہ حضرت خلیفہ اول نے مجھے آپ کے تعطل کی اطلاع دیتے ہوئے رقم فرمایا ہے کہ میں نے اُن کے واسطے دعا کی ہے۔محکمانہ طور پر آپ سے جو کچھ ہوسکتا ہے۔ان کے لئے کریں۔بڑے افسر سے ملیں۔اور میں نے جواب دیا ہے مسافر گاڑی کا حادثہ بڑا بڑا کیس ہے۔اس لئے میں کچھ نہیں کر سکتا۔حضور دُعا ہی فرمائیں۔حضور کی دُعا ہی کچھ کرلے تو کرے۔حضرت خلیفہ اول کی ہمدردی معلوم کر کے آپ بہت خوش ہوئے اور الحمد للہ کہتے ہوئے آگئے کہ اب جو کچھ ہوگا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہوگا۔اللہ تعالیٰ کا فضل عجیب در عجیب طور پر ہوا۔اول صرف ایک سال کے لیئے تنزلی کر کے اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر سے گڈس کلرک بنا کر امرتسر تبدیل کر دیا گیا اور تنخواہ میں صرف پانچ روپے ماہوار کی کمی ہوئی۔دوئم اس ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ آفیسر نے یہ رپورٹ کی کہ مسل