اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 27 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 27

۲۷ BAD RUMOURS WIRE HAZRATS HEALTH سکھر ریلوے تار کا تعلق براہ راست لاہور سے تھا اس لئے سکھر کے سکنیلر کو جلد تار بھجوا کر جواب حاصل کرنے کے لئے بھی کہہ دیا۔تمام دن غم کی حالت میں جواب کا انتظار کیا۔چار بجے بعد دو پہر سکھر سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ جواب نہیں آیا۔ریل گاڑیوں کی آمد ورفت میں کچھ وقفہ تھا۔جنگل میں جا کر نفلوں میں بے اختیار ڈھائیں مار کر دُعائیں کیں کہ اے اللہ ! یہ خبر جھوٹی ہو!! ڈھائیں رکتی نہ تھیں۔آپ بیان کرتے ہیں کہ شام تک جواب نہ آنے پر میں نے سٹیشن ماسٹر سے اجازت لی تا خیر پور میرس شہر جاؤں اور محمد ابراہیم صاحب اسٹنٹ انجینئر احمدی سے مل کر کروں۔وہاں پہنچا تو معلوم ہوا وہ تبدیل ہو چکے ہیں۔میں وہاں کے ہسپتال میں بٹالہ کے رہنے والے مسلمان ڈاکٹر سے ملا تو اُن کے ہاں اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور میں حضور کی وفات کی خبر پڑھی کہ : MIRZA GHULAM QADIAN DIED۔۔۔۔۔AHMAD OF۔AT LAHORE میری تار کے جواب میں ۲۸ مئی کو سیکرٹری صدر انجمن کا تار بٹالہ سے ارسال کردہ ملا۔HAZRAT DEPARTED NURDIN KHALIFA اگلے روز صدر انجمن کا اعلان بھی حضرت مولوی نورالدین صاحب کی خلافت اور تحریک بیعت کے متعلق موصول ہوا۔سوئیں نے اپنی اہلیہ کو آہستہ آہستہ خبر بتا دی تا کہ اسقاط نہ ہو۔اور اپنی اور ان کی بیعت کا خط تحریر کر دیا۔اردگرد کے سٹیشنوں سے ریلوے سٹاف نے آکر مجھ سے تعزیت کی۔میری اس گریہ وزاری کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے مجھے سلسلہ سے تعلق اور اخلاص عطا کر دیا۔نصرت الہی کا ایک واقعہ آپ لکھتے ہیں ۱۹۰۹ء میں ریلوے سٹاف میں تخفیف بوجہ کی آمد یا بخیال بچت ہونے لگی۔اور ہرمز کے جونیئر کارکنان کو چھ چھ ماہ کی لازمی رخصت بلا تنخواہ دی گئی میں بھی