اصحاب احمد (جلد 3) — Page 25
۲۵ آفس کے ہیڈ کلرک سے جو ہندو تھا اُس کے گھر پر ملے۔تو اس نے ملتے ہی مبارکباددی کہ آپ کی چٹھی پڑھنے سے پہلے ڈی ٹی افسر نے تنزلی کا حکم دیا تھا مگر آپ کی چٹھی پڑھ کر اسے منسوخ کر کے صرف دور و پیہ جرمانہ کیا ہے۔میں نے کہا آپ مذاق نہ کریں لیکن اس نے یقین دلایا۔واپس آنے پر ڈاک میں یہ حکم موصول ہوا۔چنانچہ لائن کے ریلوے سٹاف میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ یہ امر حضرت مرزا صاحب قادیان کا معجزہ ہے۔ڈاک گاڑی کو پانچ منٹ تاخیر کرنے کا مجرمانہ پانچ روپے ہوتا ہے۔جو بعض دفعہ بذریعہ تار کیا جاتا ہے اور یہاں پینتیس منٹ روکنے اور ڈیوٹی پر سو جانے کا جرمانہ صرف دو ۲ روپے ہوا۔ایک روایت آپ لکھتے ہیں کہ : ” میرے دوست منشی عبدالغنی (صاحب ) نے مجھے بتایا تھا کہ حضرت مسیح موعودؓ نے منشی عبدالعزیز صاحب او جلوی کو گورداسپور مولوی محمد علی صاحب کے رشتہ کے واسطے مہر ماہیا گورداسپوری کے ہاں لڑکی دیکھنے کے واسطے بھیجا تھا۔ہمیں یہ شاید ان دنوں کا ذکر ہے جب میں اوجلہ ( میں رہائش رکھتا تھا اور ) گورداسپور پڑھا کرتا تھا۔مہر ماہیا کا گھر گورداسپور ( میں ) بنگالی کی دکان کے بالمقابل شہر کی آبادی میں تھا۔منشی عبدالعزیز صاحب نے مطلب یہ ہوگا کہ لڑکی کے حالات گورداسپور جا کر معلوم کر لئے جائیں۔یعنی اقارب اور ہمسایوں سے۔مہر صاحب اور منشی عبدالعزیز صاحب ہم قوم تھے۔اس لئے ان کے لئے حالات معلوم کرنے کی سہولت حاصل تھی یہ مطلب نہیں کہ وہ خود لڑکی کو دیکھیں۔خدا تعالیٰ کی شان محترمہ فاطمہ صاحبہ بہشتی مقبرہ میں چاردیواری مزار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں دفن ہیں۔اور مولوی محمد علی صاحب بعد میں خلافت سے وابستگی اور قادیان میں قیام سے از خود محروم ہو گئے۔