اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 22 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 22

۲۲ کہ بیعت ۱۹۰۵ء ہی کی ہے۔لیکن اپنے بچے کی اس وقت کی عمر کے متعلق قریباً نصف صدی بعد حالات پیار سے مسکراتے چہرہ سے مجھے وہ الفاظ فرمائے کہ جب کبھی اس پہلی ملاقات کا تذکرہ کیا ہے۔میرے دل میں ایک ایسی لہر پیدا ہو جاتی ہے کہ جس کا الفاظ میں میں اظہار نہیں کرسکتا۔آج زائد از پچاس سال کے بعد ان سطور کو لکھتے ہوئے سوہنی۔وجدانی کیفیت قلب میں پارہا ہوں۔الحمد اللہ۔صد الحمد للہ حضور فقیر کے ساتھ ساتھ ڈھاب پر سے گذرتے واپس شہر ہو لئے۔میں اور مکرم شیخ حامد علی صاحب حضور کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔پیچھے تھوڑے فاصلہ پر حضرت اماں جان معہ ایک خادمہ اور بچوں کے آرہی تھیں۔مہمان خانہ تک حضور میرے ساتھ رہے۔میں یہ تمام وقت اپنی کئی باتیں حضور کو سناتا رہا۔آپ میری تمام باتیں نہایت محبت سے سنتے چلے آئے۔وقت ملاقات سے مہمان خانہ میں مصافحہ تک حضور کے اپنے الفاظ تو مجھے یہی یا در ہے جو میں نے اوپر لکھ دیئے ہیں۔حضور نے مجھے اجازت دی اور کھانا کھا کر میں گورداسپور ہو کر مع عیال جھٹ پٹ پہنچ گیا۔میں نے اپنے نام الحکم اور ریویو آف ریلیجنز اردو جاری کرا دیئے۔بقیہ قلمبند کرتے ہوئے آٹھ نو ماہ کا سہو ہو جانا مستبعد نہیں۔اور قرائن قویہ ایسے سہو پر دال ہیں اور یہ سہوثا بت ہے۔کیونکہ ابتداء میں اشتہار مورخہ ۸۴ والا آپ کو ملا تھا۔آپ لکھتے ہیں کہ ان ایام میں حضور کی کوئی کتاب یا مضمون بھی مجھے ملا۔جب حضور کی تحریر پڑھتا تو دل صداقت کا قائل ہو جاتا۔پھر مخالفین وعلماء کے اعتراضات پڑھتا تو گھبرا جاتا کہ صداقت کدھر ہے۔کئی دن جھٹ پٹ کے تنہا۔سنسان مقامات میں اللہ تعالیٰ سے دعائیں کر کے رہنمائی چاہی کہ اگر حضور صادق ہیں تو بغیر قبول کئے میری وفات ہو گئی تو کیا ہوگا۔یا بیعت کرلوں جو درست نہ ہو تو کیا ہوگا۔میرا قلب مضطرب تھا۔وہاں ہند و سٹیشن ماسٹر اور ہندوسٹاف کے سوا کسی اور کی محبت نہ تھی۔میں نے اپنی بیوی کو جو میری مشیر تھی اور نیک تھی کہہ دیا تھا کہ اگر ان ایام میں میری موت واقع ہو جائے ( مراد یہ کہ ہونے لگے ) تو حضور کا فلاں مضمون اور تحریر میرے سامنے کر دیں۔سو ۱۸ اپریل کے اشتہار کے ملنے کے بعد لمبا عرصہ گزرنے پر آپ نے بیعت کی ہوگی بلکہ نومبر کے قریب کی ہوگی جیسا کہ اوپر نتیجہ پیش کیا گیا ہے۔