اصحاب احمد (جلد 3) — Page 21
۲۱ سوہنے الفاظ (کہے ) ایسے حسین وقار کے ساتھ حضور نے میرا حال سنا اور پیارے مسکراتے چہرہ سے مجھے وہ الفاظ فرمائے کہ جب کبھی اس پہلی ملاقات بقیہ حاشیہ یا مولوی محمد احسن صاحب نے پڑھائی تھیں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب جو مستقل امام الصلوۃ تھے یا تو بیمار ہوں گے یا وفات پاچکے ہوں گے۔جو مرض الموت میں اواخر اگست میں مبتلا ہو کر ۱۱ اکتوبر کو فوت ہوئے تھے ( بحوالہ الحکمی ۳۱۸ ص ۷۹ ۷۱ اص۱) گویا با بوصاحب اگست سے ۱۱ اکتوبر تک بھی قادیان نہیں آئے تھے۔ورنہ ان کی جلالت شان کی وجہ سے بوقت روایت ان علالت کا ذکر کرتے۔نہ ہی بابو صاحب ۲۲ اکتوبر سے ۱۰ نومبر تک قادیان آئے کیونکہ اس دوران حضور دہلی۔لدھیانہ اور امرتسر کے سفر پر رہے اور ۱۰ نومبر کو مراجعت فرما ہوئے۔سو بابو صاحب کے قادیان آنے کا عرصہ ۲ جولائی تا آخر جولائی اور ۱۲ اکتوبر تا ۲۱ اکتوبر اور ۱۰ نومبر تا قبل جلسہ سالانہ متعین ہوتا ہے۔اور اس کی توثیق آپ کے اس تحریری بیان سے ہوتی ہے کہ آپ ۱۹۰۸ء کے جلسہ سالانہ پر قادیان آئے۔اور پھر ہمیشہ جلسہ سالانہ پر پہنچتے رہے۔گویا اس سے قبل کسی جلسہ سالانہ پر نہیں آئے۔نیز اس امر سے بھی توثیق ہوتی ہے کہ مجھے آپ کے چندہ کا اولین اندراج ۲۵ نومبر ۱۹۰۵ء کی رسیدات آمدنی میں ملا ہے۔اور آپ کے بیان سے ظاہر ہے کہ صداقت احمدیت کے متعلق آپ متذبذب تھے تا آنکہ آپ نے فال لے کر فوراً فیصلہ کر کے بیعت کا خط تحریر کر دیا اور چند دن کے اندر قادیان پہنچ کر زیارت کی۔اسلئے قبول احمدیت سے قبل چندہ دینے کا امکان نہیں۔گویا ۲۵ نومبر ۱۹۰۵ء سے قبل قریب کے عرصہ میں آپ نے بیعت کی ہوگی۔(جس کا اندراج الحکم وغیرہ سے دستیاب نہیں ہو سکا) اور اس تاریخ کے قریب ہی قادیان آئے ہوں گے۔بلکہ ممکن ہے کہ یہ چندہ آپ نے قادیان ہی میں ادا کیا ہو۔چندہ ان الفاظ میں درج ہے۔با بو فقیر علی صاحب اسٹنٹ سٹیشن ماسٹر جھٹ پٹ یا“۔( الحکم ۲۴ دسمبر ۱۹۰۵ ص ۱۰۔کالم ۲) (ھ): آپ کے قلمی حالات میں مرقوم ہے کہ بیعت کے وقت آپ کے بیٹے ایم بشیر احمد صاحب کی عمر دو سال اور مولوی نذیر احمد علی صاحب کی عمر ایک دو ماہ کی تھی۔(ایم بشیر احمد صاحب اپنی تاریخ ولادت ۱۹۰۱ء بتلاتے ہیں) مولوی نذیر احمد علی صاحب کی تاریخ ولادت ۶۰۵ ۱۰ ہے۔(ماہنامہ خالد بابت جون ۱۹۵۵ء آخری سرورق ) گویا تاریخ بیعت اند از آمارچ یا اپریل ۱۹۰۵ء نکلتی ہے۔گویا اس امر کی تو توثیق ہوتی ہے