اصحاب احمد (جلد 3) — Page 226
۲۲۶ لیتے اور ٹہلتے ٹہلتے تحریر کا کام کرتے جہاں سیاہی لگانے کی ضرورت ہوتی۔دوات میں قلم ڈبو لیتے۔اور پھر ٹہلنا شروع کر دیتے۔ان دنوں انڈی پنڈنٹ ( قلم ) نہیں ہوتے تھے۔(باہر سے آئی ہوئی عورتیں گھر میں تکلف پھرتی اور حضور سے باتیں کر لیتی ہیں) حضور کو دردسر اور ذیا بیطس کا عارضہ لاحق ہے۔جب کبھی شدت مرض کی وجہ سے باہر تشریف نہیں لے جاسکتے۔تو اندر ہی مستورات کو باجماعت نماز پڑھا دیتے ہیں۔آپ کی طبیعت میں استغناء ہے۔کسی کیطرف اونچی نگاہ کر کے نہیں دیکھتے بلکہ نظریں نیچی کئے ہوئے اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب حضور کی مصروفیت کے وقت بھی اور نماز کے اوقات میں بھی حضور کے آگے پیچھے کھیلتے رہتے ہیں۔اور حضور کبھی منع نہیں کرتے۔ہماری لڑکی قریباً اسی عمر کی تھی وہ بھی کبھی صاحبزادہ صاحب کے ساتھ کھیلتی ہے تو کئی دفعہ حضور از راہ شفقت اسے بھی اپنی گود میں بٹھا لیتے اور پیار کرتے ہیں ہے۔) ۱۹۰۷ء میں یہ بچی بیمار ہوگئی۔دُعا کے لئے لکھنے کا موقع نہ ملا مگر دل میں تڑپ تھی کہ اسے حضور کے صدقے سے ہی آرام ہو جائے۔مگر بقضائے الہی وہ جانبر نہ ہوسکی۔بلکہ بعمر ساڑھے سات سال وفات پاگئی۔اس کا مجھے بڑا قلق ہوا۔کیونکہ اس سے قبل بھی کوئی اولاد نہ تھی اور نہ بعد میں ہوئی۔دوسرے تیسرے دن میں نے اخبار میں پڑھا کہ حضور کو الہام ہوا ” میں ان کے رونے کی آواز سُن رہا ہوں، مجھے اس وقت کچھ ایسا یقین ہوا کہ یہ میرے ہی متعلق ہے۔طبع اول ( ص ۱۰ میں ) والدہ صاحبہ اور اہلیہ دونوں کی طرف سے یہ بیان کرنا درج ہے کہ کئی دفعہ حضور نے بچی کو اٹھایا اور پیار کیا۔خاکسار کو پہلے محترم خانصاب نے حالات زندگی بھجوائے۔بعد ازاں کتابت شدہ کا پیاں آپ کو خاکسار نے راولپنڈی جا کر دیں۔آپ نے ساری پڑھیں اور اسے درست قرار دیا۔سو طبع اول کا بیان قابل ترجیح ہے بجائے ۱۹۵۱ء کے بیان کے جس میں والدہ صاحبہ کی طرف سے آپ نے بیان کیا ہے کہ ایک دفعہ بچی کو گود میں اٹھایا تھا۔