اصحاب احمد (جلد 3) — Page 222
۲۲۲ دیکھا جائے تو جس دلیل کو سامنے رکھ کر انہوں نے بیعت کی وہ بھی بذات خود ایک بڑی دلیل ہے۔چنانچہ بیعت کے بعد سلسلہ کی صداقت کے اور دلائل بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں سمجھا دیئے۔ان کی بیعت کر لینے سے خان صاحب کو گھر میں اور محلہ میں تعصب و غیرہ کی وجہ سے کوئی خاص تکلیف نہیں ہوئی۔کیونکہ موصوفہ کا طرز زندگی اپنوں اور دوسروں کے ساتھ اس قسم کا اعلیٰ تھا کہ سب اس نیک منش خاتون کی عزت کرتے تھے۔والدہ صاحبہ قادیان آنے کا شوق رکھتی تھیں۔ایک دفعہ آپ کے ساتھ قادیان آئیں۔آپ کی اہلیہ صاحبہ اور بچی بھی ساتھ تھیں۔قریبا بارہ تیرہ روز قادیان میں قیام رہا۔اور قریباً روزانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اندرونِ خانہ جاتی تھیں۔اور حضور کی کئی باتیں خاں صاحب کو سناتی تھیں جن میں سے انہیں صرف اس قدر یا د رہا کہ گھر میں حضور عموما لکھنے پڑھنے میں مشغول رہتے ہیں۔ایک دفعہ موسم گرما میں خاں صاحب والدہ کو لے کر قادیان آئے۔وہ بیعت کر چکی تھیں۔پتہ چلا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو کسی مقدمہ کے سلسلہ میں گورداسپور تشریف لے گئے ہیں۔ان دنوں طاعون کا زور تھا۔کسی نے بتایا کہ بیرونی مستورات کو حضور کے گھر جانے کی اجازت نہیں۔حضرت خلیفہ اسیح اول نے اپنے مکان میں ایک کمرہ والدہ صاحبہ کے لئے مرحمت فرمایا۔اور جب سُنا کہ خاں صاحب کی والدہ صاحبہ ضعیف العمر اور حقہ پینے کی عادی ہیں تو حقہ مہیا کر دیا۔اور حکم دیا کہ ان کے پاس ہر وقت آگ اور تمبا کو تیار رہے۔کھانا دونوں وقت آپ اپنے گھر سے پکوا کر بھجوا دیتے۔دارالامان پہنچنے پر میں نے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سے ذکر کیا کہ ہم تو زیارت کے لئے حاضر ہوئے تھے۔حضور یہاں نہیں۔اور میں ایک دو دن سے زیادہ یہاں ٹھہر نہیں سکتا۔اس لئے افسوس ہے کہ بغیر ملاقات کے ہی جانا پڑے گا۔فرمایا مجبوری ہے کیا کیا جائے۔پھر اسی رنگ میں حضرت خلیفۃ اسیح اوّل سے عرض کیا۔فرمایا میاں ! آپ کی والدہ صاحبہ ضعیف ہیں تو کیا حرج ہے۔یہاں تک پہنچے ہی ہو۔گورداسپور بھی ہو آؤ۔مگر والدہ صاحبہ کی ضعیف العمری کے مدنظر خاں صاحب کو حوصلہ نہ پڑا۔علاوہ ازیں موسم بھی خراب تھا۔اس دن بارش ہو رہی تھی۔