اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 20 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 20

میں سندھ سے آیا ہوں اور کل کا قادیان آیا ہوا ہوں لیکن حضور سے ملاقات نہیں ہوسکی تھی۔گو میں نے بذریعہ خط بیعت کی ہوئی ہے جس کا جواب بمقام جھٹ پٹ مجھے مل چکا ہے۔لیکن ابھی تک حضور سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔حضور نے سب سے پہلے دریافت فرمایا کہ مجھے حضور کی شناخت کیونکر ہوئی۔اور بیعت کرنے کا خیال کس طرح ہوا۔میں نے اپنے دوست منشی عبدالغنی صاحب اوجلوی کا مجھے اشتہار بھجوانا۔دعائیں کرنا وغیرہ ساری تفصیل سُنا دی۔حضور احوال سُن کر مسکرائے اور فرمایا : " آپ نے خوب کیا۔اللہ تعالیٰ سے دعاؤں کے بعد قرآن شریف سے رہنمائی طلب کی۔اگر وہاں شیطان کا لفظ نکل آتا تو آپ شاید (ساری عمر ) میری شکل بھی نہ دیکھ سکتے۔لیکن چونکہ آپ نے قرآن شریف سے رہنمائی حاصل کرنے کی غرض۔۔سے جملہ حضور نے ایسے پیارے (1) آپ کی قلمی کاپی میں واوین میں دیا گیا نا مکمل فقرہ درج ہے اور اسی طرح وہاں نقطے دیئے ہوئے ہیں۔جن کے بعد ” سے تا آخر الفاظ مرقوم ہیں۔خطوط وحدانی میں الفاظ (ساری عمر اور (کہے ) خاکسار مؤلف کی طرف سے ہیں۔(ب): حضور کے ارشاد کا یہ مفہوم معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید سے اس طرح فال لینا اور جو کچھ نکل آئے اسے حق میں یا خلاف ایک محکم دلیل یقین کرنا صحیح مسلک نہیں۔(ج): بہشتی مقبرہ میں اولین تدفین حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی ۱۳۵ ۲۵ کو ہوئی تھی (الحکم (۱۰) یہ بیان کرنا اس لئے ضروری ہے کہ روایت میں بہشتی مقبرہ کا ذکر آیا ہے۔بوقت ملاقات ابھی اس کا قیام عمل میں نہ آیا تھا۔البتہ بوقت روایت چونکہ بہشتی مقبرہ قائم تھا اس لئے بابو صاحب نے اس کا ذکر کیا ہے۔(د): ۱۹۰۵ء میں زیارت کی تاریخ تو معین نہیں۔البتہ اشتہار الانذار مورخہ ۱۸اپریل آپ کو ڈاک میں سندھ میں موصول ہوا تھا۔۴ اپریل کے شدید زلزلہ کے بند ہونے پر حضور نے بڑے باغ میں ڈیرہ لگا لیا تھا۔( بحوالہ سیرۃ المہدی حصہ اوّل ص ۲۔روایت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب) اور ۲ جولائی کو ظہر کے بعد حضور باغ سے قادیان واپس تشریف لائے تھے (بحوالہ الحکم ۶۰ ۳۰ ص۲) بابو صاحب کی روایت سے ظاہر ہے کہ حضور باغ میں مقیم نہ تھے بلکہ قصبہ سے سیر کے لئے تشریف لے گئے تھے۔گویا با بوصاحب قادیان میں ۲ جولائی تک نہیں آئے۔بابو صاحب ذکر کرتے ہیں کہ نمازیں حضرت مولوی نور الدین صاحب