اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 201 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 201

۲۰۱ مقصد نو جوانوں کو اشاعت اسلام کے لئے تیار کرنا تھا۔اس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تفخیذ الاذھان رکھا۔محترم صاحبزادہ صاحب اس کے صدر منتخب ہوئے۔منشی صاحب بھی اس انجمن کے ایک رُکن تھے ہیں۔حضرت خلیفہ اول کا زمانہ اور غیر مبایعین کا رویہ غیر مبایعین کے فتنہ کے حالات ذیل میں محترم خاں صاحب کی طرف سے بیان کردہ درج ہیں کیونکہ اس تعلق میں آپ کو بھی بعض خدمات کا موقعہ ملا۔آپ فرماتے ہیں کہ غیر مبایعین کو یہ زعم تھا کہ حضرت خلیفہ اول کا انتخاب ان کے زور پر ہوا ہے۔اور انہیں ایک طرح خلیفہ وقت پر تفوق حاصل ہے یعنی انہوں نے انتخاب کیا ہے۔اور وہ اپنی کثرت رائے سے انہیں معزول بھی کر سکتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول کو جب ان باتوں کا علم ہوا تو آپ نے ان کے سر بر آوردہ لوگوں کو قادیان میں بلوایا۔اور برسر عام فرمایا کہ ان لوگوں کا خیال غلط ہے۔مجھے کسی نے منتخب نہیں کیا۔میں کسی کا ممنون احسان نہیں ہوں۔بلکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے مسند خلافت پر متمکن فرمایا ہے۔میں ایسے لوگوں کے خلیفہ بنانے پر تھوکتا بھی نہیں۔میں ایسا ہی خلیفہ ہوں جیسے آدم تھا۔جیسے داؤد تھا۔جیسے ابوبکر صدیق تھا۔پس فرشتے بن کر میری اطاعت کرو۔شیطان بن کر مخالفت مت کرو۔ورنہ میرے پاس ایسے ایسے خالد بن ولید ہیں کہ تمہیں سیدھا کر دینگے دوبارہ میری بیعت کرو۔چنانچہ جن جن کو حکم ہوا ان سب نے تجدید بیعت کی۔بنشی برکت علی صاحب چندہ ممبری چار آنے (رسالہ مئی و جون ۱۹۰۹ ء سرورق ما قبل آخر ) انجمن تشحیذ الاذھان کا چندہ ادا کرنے کا ذکر رسالہ تشحیذ الاذھان بابت اپریل ۱۹۰۸ء مئی ۱۹۰۹ء جولائی ۱۹۱۲ ء | وسرورق صفحہ ماقبل آخر میں ہے۔آپ کی معرفت اس کا چندہ ادا ہوا۔رسالہ فروری ۱۹۰۹ء۔ص۴۴) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (صدر انجمن ہذا و مدیر رسالہ ہذا) نے ایک دار الکتب احمدیہ قائم کیا۔ایک بار جو آپ نے اس کی مالی حالت کی طرف احباب کو توجہ دلائی تو ساڑھے چھیاسی ۸۶ روپے وصول ہوئے دو افراد کی طرف سے دس دس۔جماعت پشاور۔ایک تحصیلدار صاحب اور گیارہ افراد بشمول خاں صاحب کی طرف سے پانچ پانچ اور تین افراد کی طرف دو۔اڑھائی اور تین روپے 9۔