اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 18 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 18

۱۸ ہے اور اسے انجن میں بٹھلا کر سٹیشن پر لایا کہ دکھاؤ مسلمان بابو کہاں ہیں مجھے دیکھ کر کہنے لگا کہ یہ تو پنجابی ہیں۔گویا سندھی بابو ( پڑھا لکھا) ہونا ناممکن تھا۔اسی طرح ایک سندھی ملازم گھر سے واپس آیا تو پوچھا کیا غسل واجب کر لیا ہے تو کہنے لگا کہ گھر پر بیوی تھی نہ کہ پرائی عورت کہ غسل کرتا۔ان حالات میں جب کہ اس سٹیشن پر سٹاف اور سٹیشن ماسٹر سب ہندو تھے اور کوئی مشیر کا رنہ تھا۔آپ نے اپنی رفیقہ حیات سے کہا کہ ان ایام میں میری موت واقع ہونے لگے تو حضرت مرزا صاحب کی فلاں تحریر میرے سامنے کر دینا۔ایک دن اپنی چچی دادی محترمہ مریم صاحبہ اور اہلیہ اور ایک عزیز رشتہ دار کی معیت میں نماز فجر ادا کر کے آپ نے انہیں کہا کہ آپ سب گواہ رہیں کہ آج میں حضرت مرزا صاحب کے متعلق فیصلہ کے لئے قرآن مجید کھولتا ہوں جو حضور اور مخالفین دونوں کا مشترک و مسلم کلام الہی ہے۔دائیں صفحہ کی تیسری سطر فیصلہ کن ہوگی۔چنانچہ سورۃ یوسف کا یہ حصہ نکلا - ما هذا بشراً ان هذا الا ملک کریم اللہ کا تقرف یوں ہوا کہ برملا آپ نے کہہ دیا کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیان والے صادق من اللہ اور مسیح موعود مہدی مسعود ہیں۔اور معا اپنی اور اہلیہ صاحبہ کی بیعت کا خط ( مؤخر الذکر سے نشانِ انگوٹھا ثبت کرا کے کیونکہ وہ ان پڑھ تھیں) بھیج دیا جس میں تفصیل بالا بھی درج کر دی تھی۔اور چند دن میں منظوری کا جواب بھی موصول ہو گیا۔آپ نے سٹیشن ماسٹر سمیت تمام عملہ ریلوے میں قبول احمدیت کا اعلان کر دیا۔بعد بیعت حضور کی ملاقات آپ تحریر کرتے ہیں کہ بیعت کے کچھ روز بعد میں چند دن کی رخصت پر موضع گھسیٹ پور ضلع ہوشیار پور پہنچا۔اور کرایہ پر ایک گھوڑا حاصل کر کے براستہ پین نوشہرہ ( جو گورداسپور اور مکیریاں کے درمیان دریائے بیاس پر واقع ہے ) اور براستہ کا ہنووان بیٹ حضور کی اولین ملاقات کے لئے روانہ ہوا۔ایک دو دفعہ گھوڑا اڑ گیا تو خیال آیا کہ میں رضائے الہی میں یہ سفر نہیں کر رہاور نہ گھوڑا کیوں نہیں چلتا ؟ اللہ تعالیٰ کی رہنمائی سے میں نے ایک شارخ درخت لے کر اسے تحریک کی تو وہ زور سے چل پڑا اور میں قادیان کے مہمان خانہ میں پہنچ گیا۔منتظم مہمان خانہ نے میرا گھوڑا سنبھال لیا۔اور مجھے ٹھہرنے کو جگہ دی۔اور