اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 183 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 183

۱۸۳ تھیں کہ یہ مرزا صاحب کے اعتقادات ہیں۔جن کی وجہ سے وہ ملحد اور کافر ہیں۔مجھے غیر احمدیوں نے احمدیوں کے ساتھ گفتگو کرنے کے لئے اُکسایا۔لیکن میں نے کہا۔اس طرح لطف نہیں آتا۔جن کتابوں کے حوالہ جات یہاں دئے گئے ہیں۔انہیں مہیا کرو۔میں خودوہ حوالے پڑھوں گا۔چنانچہ وہ کتابیں مہیا کی گئیں۔میں نے اشتہار کا اصل کتابوں سے مقابلہ کیا تو دیکھا کہ بعض حوالے تو بے شک ٹھیک تھے۔لیکن اکثر حوالے ایسے تھے۔جن میں اپنی مطلب براری کے لئے قطع و برید کی گئی تھی۔اس سے مجھے مولویوں سے بدظنی پیدا ہوئی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ عقیدت پیدا ہوگئی۔انہی دنوں میں ایک دو اور باتیں ایسی پیدا ہوگئیں جن کی وجہ سے مجھے احمدیت کی طرف زیادہ رغبت ہوگئی اور چونکہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ عقیدت پیدا ہو چکی تھی۔اس لئے میں نے احمدیوں کو چار آنہ ماہوار چندہ بھی دینا شروع کر دیا ہے۔اس کی وجہ محض حسنِ ظن تھا۔جو مجھے ان لوگوں پر تھا کہ یہ لوگ روپیہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔چنانچہ میں نے کئی ماہ تک چندہ دیا۔میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کوئی میرے رستہ میں خرچ کرتا ہے۔تو میں اُسے کئی گنا بڑھا چڑھا کر دیتا ہوں۔اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ دوسرے جہان میں بڑھا چڑھا کر دے گا۔لیکن بہت سے صاحب تجربہ اولیاء اور صوفیاء نے کہا ہے۔اور قرآن کریم سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی دنیا میں بھی کئی گنا بڑھا چڑھا کر بدلہ دیتا ہے۔میں نے خیال کیا کہ میں نے یہ تھوڑی سی رقم خدا تعالیٰ کے رستہ میں دی ہے۔اگر یہ سلسلہ فی الواقعہ سچا ہوا تو خدا تعالیٰ مجھے اسی دنیا میں اس سے بڑھ چڑھ کر روپیہ الحکم بابت 1900ء میں آپ کے چندہ کا اندارج نہیں ملا۔البتہ فروری۔اپریل اور مئی وجون ۱۹۰۱ء | میں پونے چار روپے چندہ دینا مذکور ہے۔