اصحاب احمد (جلد 3) — Page 174
۱۷۴ اور دوسرے بزرگوں کی دعائیں بھی اس میں شامل ہیں۔اس بیماری سے شفا پانے کے بعد آپ دس سال تک زندہ رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کرام کی دعاؤں کی برکت سے وافر حصہ ملا۔خدا تعالیٰ نے آپ کو بہت سی اولاد سے نوازا بلکہ ان کی اولاد اور آگے ان کی اولاد کو بھی دیکھ لیا۔آپ کی خواہش تھی کہ میرے لڑکے خادم دین بنیں سو اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی میں ہی ہم تین بھائیوں کو خدمت سلسلہ بجالانے کی توفیق دی۔آپ نے اپنے حالات اور واقعات کو اپنی زندگی میں کبھی شائع کروانا پسند نہیں کیا۔بلکہ مکرم ملک صلاح الدین صاحب کے اصرار پر آپ نے کچھ حالات قلم بند تو کئے مگر یہ وصیت کر دی کہ میری وفات کے بعد انہیں شائع کرنے کے لئے دئے جائیں۔" آپ نے اپنی علالت کے آخری ایام نہایت صبر سے۔خدا تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہتے ہوئے دن رات تسبیح و تحمید اور دعاؤں میں گزارے کبھی کوئی کلمہ ناشکری کا آپ کی زبان سے نہ سُنا۔آخری وقت تک چہرے کی بشاشت قائم رہی۔آپ کو کچھ عرصے سے ایسی خوا میں آرہی تھیں۔جن میں وفات کی طرف اشارہ تھا۔رحیم وکریم خدا نے جو زندگی بھر ان کی دستگیری کرتا رہا آخری ایام میں بھی بڑے معجزانہ طور پر اپنی نصرت کا اظہار فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے ایسے غیر معمولی حالات پیدا کر دئیے کہ میرے ایک بھائی رشید ناصر کو یہ توفیق دی کہ ہزاروں روپے ان کے علاج پر خرچ کر سکے۔اور دوسرے عزیزوں کو جن میں میرے بھائی اور بہنوئی شامل ہیں۔دو مہینے تک دن رات بڑے خلوص اور ہمت کے ساتھ ان کی خدمت کی توفیق دی۔ہم خاص طور پر حضرت خلیفہ المسح ایدہ اللہ تعالی کے شکرگزار ہیں جنہوں