اصحاب احمد (جلد 3) — Page 10
ہنود میں تعلیم کا چرچا دیکھ کر آپ کے والد اس امر کے متمنی تھے کہ آپ کا بیٹا تعلیم حاصل کرے۔موضع کھمن خورد سے ایک معمر بزرگ جو نمازی اور محمد تین تھے آپ کے گاؤں میں آتے جن سے بابو صاحب نے گھر پر اُردو قاعدہ وغیرہ پڑھا۔پھر موضع کھمن کلاں کے سرکاری پرائمری مدرسہ میں آپ کو داخل کیا گیا۔چونکہ آپ کا ننھیال نرینہ اولاد سے محروم تھا اور آپ کے ددھیال میں بھی صرف آپ ہی اکلوتے بچے تھے۔اس لئے بہت لاڈلے تھے۔اڑہائی تین میل کا فاصلہ روزانہ پیدل طے کرنا اور سارا دن والدہ سے الگ رہنا اور سب زیر تعلیم بچوں سے خوردسال ہونے کی وجہ سے ان کا مشق ستم ہونا۔شاید ان وجوہات سے ابتداء میں آپ مدرسہ نہ جانے پر اصرار اور ضد کرتے تھے۔بھی والد آپ کو چھوڑنے جاتے۔کبھی خالہ نصف راستہ تک الوداع کہنے جاتیں۔کبھی مدرس بچوں کو بھجوا کر بلواتے۔لیکن ننھا فقیر علی بچوں کو کہتا کہ تم میرے زیور لے لو لیکن میں مدرسہ نہیں جاؤنگا۔اور راستہ میں سے واپس آجاتا۔بالآخر آپ کو موضع نوشہرہ مجا سنگھ کے مدرسہ میں داخل کیا گیا۔آپ نہایت ذہین طالب علم ثابت ہوئے۔ایک ہی سال میں آپ نے جماعت اوّل و دوم پاس کر لیں۔پرائمری کے امتحان میں آپ نے دوروپے ماہوار وظیفہ حاصل کیا۔اب آپ کو بمقام گورداسپور میونسپل بورڈ ہائی سکول میں داخل کیا گیا۔آپ ہر جماعت میں مضامین کے علاوہ اعلیٰ چال چلن کے لحاظ سے بھی اوّل آتے تھے۔اور ہر دو کے انعامات میں اپنی جماعت میں سب سے قیمتی کتب انعام پاتے۔انگریزی مڈل کے امتحان میں ۱۸۹۷ء میں یونیورسٹی سے چھ روپے ماہوار وظیفہ پایا۔آپ کے ایک استاد ماسٹر بالمکند نام نہایت بقیہ حاشیہ: ان کے ہاں پہلا بچہ ہوا۔دوسرے والد صاحب بچہ اور بچہ کی والدہ کو وہاں چھوڑنے آئے۔سومیاں بشیر احمد صاحب کی ولادت کی صحیح تاریخ سے یہ بات حل ہو جاتی ہے۔میاں صاحب موصوف بتلاتے ہیں کہ ان کا سنِ ولادت ۱۹۰۱ء (انیس سو ایک) ہے۔اب تک بھی بعض جگہ چھوٹے لڑکوں کو پیار سے معمولی زیور پہنانے کا رواج آن پڑھ لوگوں میں دیکھا گیا ہے۔