اصحاب احمد (جلد 3) — Page 108
۱۰۸ ہیں۔بخلاف ان تمام اولیاء اللہ کے ایک نورالدین ہے جو جلوت میں رہتا ہے۔مگر اس کی تار خدا کے ساتھ ہر وقت لگی رہتی ہے۔(مفہوم) حضرت خلیفہ ثانی سے تعلقات اور خلافت کی سرگرم تائیدات آپ بیان کرتے ہیں: (۱): جب حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب ( خلیفہ ثانی۔جو ان دنوں میاں صاحب کہلاتے تھے ) ۱۹۱۲ء میں حج کے لئے قادیان سے روانہ ہو کر بٹالہ اور بٹالہ سے ریل کے تیسرے درجہ میں سوار ہو کر امرتسر پہنچے۔ساتھ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی تھے۔جو غالباً بمبئی تک گئے تھے۔اور سید عبداشتی صاحب غالبا مصر تک ساتھ گئے تھے۔تجویز یہ تھی کہ پہلے آپ مصر جائیں اور وہاں سے پھر حج کے لئے جائیں۔خاکسار بھی ریل میں آپ کے پاس ہی بیٹھ کر امرتسر تک گیا۔اور راستہ میں دعا کے لئے بار بار عرض کرتا رہا۔آپ حج میں اور سفر میں میرے لئے دعا فرمائیں۔امرتسر سے گاڑی روانہ ہونے لگی۔تو مجھے بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے کچھ رقم دی اور ایک تار فارم دیا جو حضرت صاحب کے کسی احمدی رشتہ دار کو (جن کے نام سے پہلے مرزا لکھا تھا ) دی گئی تھی۔کہ ہماری گاڑی فلاں روز ں سٹیشن پر پہنچے گی۔آپ سٹیشن پر ملاقات کیلئے آئیں یہ تار مجھے دے کر ہدایت کی تھی کہ رسٹیشن سے ہی بھجوا دوں۔غرض یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے لئے رحمت کے سامان ہوئے تھے کہ مجھے یہ توفیق ملی کی میرا نام بھی حضور نے سفر اور حج کی دعاؤں میں رکھ لیا۔مجھے اُس زمانہ میں بھی حضور سے محبت کا گہرا تعلق تھا۔میرا خیال ہے کہ ان دعاؤں کے نتیجہ میں مجھے وہ مواقع نصیب ہوئے جن سے میری محبت آپ کے ساتھ دن بدن بڑھتی گئی۔اور مجھے دینی و دنیوی انعامات بھی حاصل ہوئے ہی ہے۔یہ جو فرمایا کہ تم اپنے مرزا ہی کو دیکھ لو۔یہ ایک خاص محبت اور عشق کے رنگ میں حضور کا قول تھا۔محض یہ دکھلانے کے لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو اولیاء اللہ سے بڑے ہیں۔وہ بھی خلوت پسند ہیں۔مقابلہ بات نہ کہی تھی۔فضل احمد۔: مكرم عبد العزیز صاحب بھی بمبئی تک ساتھ گئے تھے۔قادیان سے ۲۶ ستمبر ۱۹۱۲ ء کو