اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 103 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 103

۱۰۳ (۲۱) جاذبیت غالباً ملتان کے رہنے والے حضرت خلیفہ اول کے ایک غیر احمدی دوست جو بیمار تھے آپ کے پاس آئے۔آپ نے بڑی محبت اور محنت سے ان کا علاج کیا۔شفایاب ہو کر انہوں نے بعض داڑھی منڈے نوجوانوں پر اعتراض کرتے ہوئے آپ سے کہا کہ ایسے لڑکوں کو تنبیہ کرنی چاہیئے فرمایا آپ بھی عالم ہیں آپ کا بھی حق ہے کہ نصیحت کریں۔انہوں نے مسجد اقطے میں غالباً صوبہ سرحد کے ایک نوجوان کو کچھ تنبیہ کی۔تو وہ نوجوان غصہ سے بھر گیا۔اور کہنے لگا ہم کو تو صرف حضور کا ڈر ہے۔ورنہ تمہیں اٹھا کر مسجد سے باہر پھینک دیتے۔مولوی صاحب نے آپ کی خدمت میں یہ بات سنائی تو فرمایا کہ یہ دن ہمارے ہی قابو میں ہیں۔مراد یہ تھی کہ آپ لوگوں کی نصیحت پر یہ بے قابو ہو جاتے ہیں۔ہمارے کہنے پر عمل کرتے ہیں۔غیروں کے بس میں نہیں۔(مفہوم) (۲۱) غرباء کے السابقون بالایمان ہو نیکی حکمت ایک روز فرمایا کہ اگر انگلستان کا بادشاہ جو ان دنوں ایڈورڈ ہفتم تھا۔احمدی ہو جائے اور اس کے دل میں جوش پیدا ہو کہ میں اپنے مُرشد و آقا کی زیارت کے لئے قادیان جاؤں اور وہ اپنے وزیر اعظم کو حکم دے کہ ہم قادیان جائیں گے۔ہمارے لئے جہاز تیار کیا جائے۔تو وزیر اعظم بھی فوراً کہے گا کہ مجھے بھی اجازت ہو کہ آپ کے ہمراہ جاؤں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ جہازوں کا ایک قافلہ قادیان آنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔اور وہ آخر کار جہازوں سے اتر کر سپیشل ٹرینوں میں بٹالہ آئے گا۔تو پہلا حکم یہ ہوگا کہ بادشاہ سلامت قادیان جارہے ہیں۔کوئی شخص بٹالہ قادیان کی سٹرک پر نہیں چل سکتا۔پھر فرمایا قادیان پہنچ کر بادشاہ حضرت کے حضور حاضر ہوتا ہے۔بے شمار تحفے تحائف حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کرتا ہے۔اور کچھ روز رہ کر واپس ولایت چلا جاتا ہے۔وہاں جا کر اسے خیال آتا ہے کہ میں نے حضرت صاحب کو کیا کچھ دیا۔بیشمار تحفے تحائف اور اُنھوں نے مجھے کیا دیا کچھ نہیں۔میں جیسا پہلے بادشاہ تھا۔اب بھی ویسا ہی بادشاہ ہوں۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس