اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 8 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 8

والدین کی طرف سے نیک تربیت بابو صاحب کے والد ماجد اپنے گاؤں میں ذی عزت شخصیت تھے۔اور آپ کی دلیری اور جرات مندی مشہور تھی۔آپ سے آپ کے بھائی مرعوب تھے۔بلکہ موضع او جلہ نز دگورداسپور میں اپنے بھائی میاں منگو کے معاملات اور ان کے تنازعات رفع کرنے انہی کے ذمہ تھے۔نیز اپنے خاندان کے کام دونوں میاں بیوی سرانجام دیتے تھے۔ایک دفعہ آپ کے ایک بھائی رات کو آرہے تھے۔کہ ان کا نام پکار کر آوازیں دی گئیں کہ آؤ تمہیں دُودھ دہی دیں۔وہ سمجھے کہ چڑیل ، بھوت کی آوازیں ہیں اور وہ اس صدمہ سے بیمار پڑ گئے۔بوڑھی والدہ اور بیوی جسم دبارہی تھیں کہ آپ گھر پہنچے اور یہ ماجرائن کر سخت جوش میں آگئے۔آپ نے اپنے بھائی کا لحاف اُتار کر دور پھینک دیا۔اسے پکڑ کر بٹھلا دیا۔اور کہنے لگے۔چرواہے لڑکوں نے تمہیں ڈرا دیا اور تم بخار لئے پھرتے ہو۔چڑیل ، بھوت کہاں ہیں؟ چنانچہ اس طرح آسیب زدہ وہی صدمہ سے نجات پا گیا۔اور اس کا بخار فوراً اُتر گیا۔ان کی دلیری کے دو اور واقعات بھی معروف تھے۔ایک تو یہ کہ چلتے ہوئے ان کے منہ سے ہوں۔ہوں“ کی آواز نکلتی تھی۔جو رات کو زیادہ اونچی ہو جاتی تھی۔ایک دفعہ نصف شب کے قریب آپ سفر سے واپس آرہے تھے۔آپ کے گاؤں کا ایک چور گل شیر نام اس وقت موضع گھمن خورد کی مڑھیوں میں بیٹھا روشن چتا پر مکی کے کھٹے بُھون کر کھا رہا تھا۔ارد گر د ملگی اور کماد کی فصلیں ایستادہ تھیں۔گل شیر نے دُور سے آپ کی آواز سنی تو یقین جانا کہ آپ کو ڈرانے کا ایک نادر موقعہ ہاتھ لگا ہے۔آپ یقین کریں گے کہ چتا کی آگ میں سے جو آواز آرہی ہے وہ کسی ڈائن کی ہے۔چنانچہ اس نے آواز دے کر کہا کہ اوشادی! آمیں تجھے دُودھ دہی دوں۔لیکن میاں شادی لمحہ بھر کے لئے بھی تو دہشت زدہ نہ ہوئے۔آپ نے قریب پہنچ کر اسے کہا تم چوری کی نیت سے نکلے ہو۔باز نہیں آتے۔وہ آپ کی بے خوفی سے ششدر رہ گیا۔اور دوسرے روز اس نے لوگوں سے اس بقیہ حاشیہ: معلوم کرنے سے صحیح تاریخ ولادت معین ہو سکے گی۔انشاء اللہ تعالی۔ریکارڈ وصیت بہشتی مقبرہ میں آپ کی ولادت کی تاریخ ۱۸۷۹ء اور بوقت وفات عمر اسی ۸۰ سال مرقوم ہے۔