اصحاب احمد (جلد 3) — Page 91
۹۱ آپ دو تقریر میں کریں۔سو آپ حضرت خلیفہ اول سے جو آپ پر بہت مہربان ہیں اس کی منظوری حاصل کرنے کے لئے درخواست کریں۔میں نے عرض کیا تو فرمایا کہ اس میں تو باپ والا رنگ ہے۔میں اس کی ایک تقریر برداشت نہیں کر سکتا تو بٹالہ والے ایسے کہاں۔آگئے کہ اس کی دو تقریر میں سُن لیں گے۔(مفہوم) (۴): ۱۹۱۱ء میں تعلیم الاسلام ہائی سکول کی بنیا د رکھنے کے لئے حضرت خلیفہ اول تشریف لائے۔خاکسار بھی ان دنوں قادیان میں اور اس موقعہ پر موجود تھا۔حضرت خلیفہ اول نے خود بھی بنیادی اینٹیں رکھیں اور ارشاد فرمایا کہ۔(۱): حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (۲) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب (۳): حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت نواب محمد علی خان صاحب (رضی اللہ عنہم ) سے بھی رکھوائیں۔اس موقعہ پر غالباً چالیس سے زیادہ افراد موجود تھے۔آپ نے تقریر فرمائی کہ حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس نیک کام کے لئے چالیس مومن دعا کریں اللہ تعالیٰ وہ دعا قبول کر لیتا ہے۔آؤ ہم بھی دُعا کریں کہ یہ عمارت بابرکت ہو اور اس میں نیک بچے تعلیم پائیں وغیرہ وغیرہ۔پھر حضور نے بڑی دیر تک دُعا کی۔سيرة حضرت خلیفہ اول آپ بیان کرتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول کی مجلس میں مجھے بکثرت بیٹھنے کا موقعہ ملا پہلے تو حضور مجھے ” آپ کے لفظ سے مخاطب فرماتے تھے۔پھر ”اوئے“ کہہ کر جو اردو میں ”ارے کے مترادف ہے پکارنے لگے۔جس سے مجھے بڑی خوشی ہوتی۔کیونکہ اس لفظ سے خاص خادم یا بے تکلف کو پکارتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی دوسری تقریر کی بھی اجازت حاصل کر لی گئی ہوگی جس کا با بوفضل احمد صاحب کو علم نہیں ہوا ہوگا۔یا یاد نہیں رہا ہوگا۔بدرا امئی ۱۹۱۱ء (ص۱) میں اس جلسہ کا اور ۲۷ اپریل (ص1) میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کی علالت کے باعث حضرت ام المؤمنین اور حضرت صاحبزادہ صاحب کے امرتسر جانے کا ذکر ہے۔تفصیل کے لئے دیکھیے البدر۳ اگست ۱۹۱۲ء یہ بنیاد ۲۵ جولائی ۱۹۱۲ء کو رکھی تھی نہ کہ ۱۹۱ء میں۔