اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 7 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 7

L بند و بست اراضی ۱۸۶۵ء کے ریکارڈ میں اپنے خاندان کے شجرہ میں یہ امر مرقوم پایا کہ آپ کے دادا کے ایک بھائی نے خاندان کی چھتیں چالیس گھماؤں جدی اراضی واقعہ موضع سوچانیاں ضلع گورداسپور کے متعلق افسر بندو بست کو یہ بیان دیا تھا کہ بار بار بیگار اور معاملہ کی ادائیگی وغیرہ کی وجہ سے بحالات حاضرہ ہمارے لئے اراضی سنبھالنا مشکل ہے۔چنانچہ یہ اراضی ایک کھتری خاندان کے نام درج کر دی گئی۔بابو صاحب بیان کرتے ہیں کہ قریب میں سکھ حکومت تبدیل ہوئی تھی۔دیہات میں غربت۔ملازمت۔وحشت بیگار اور آثار ظلم تحصیل نمایاں تھے۔یہ موضع ہندو کھتریوں کا تھا۔جس کے قریب موضع کوٹلہ چاہلاں گورداسپور میں آپ کے والدین محترم میاں شادی و محترمہ کریم بی بی سکونت پزیر تھے۔یہ موضع چاہل ہندو جاٹوں کا تھا۔اور اس ذات کے متعدد مسلمان گھرانے بھی وہاں آباد تھے۔بابو صاحب کے جد اللہ بخش ولد خدا بخش ولد امام بخش یا امام بخش ولد خدا بخش با بوصاحب عند التحریر سرکاری شجرہ کی یہ بات بھول گئے ) کے جدا مجد سدھر نام جو گل جاٹ زمیندار ہندو قوم سے اسلام سے مشرف ہوئے تھے۔سدھر گل خاندان علاقہ دریائے راوی۔رمداس اور علاقہ سیالکوٹ میں آباد ہیں۔بابو صاحب کی ولادت ماہ پھاگن مطابق ماہ فروری میں ۱۸۸۲ ء یا ۱۸۸۴ء میں موضع کوٹلہ مذکور میں ہوئی تھی اور والدہ صاحبہ کے بیان کے مطابق چلہ نہا کر ایک میل کے فاصلہ پر چھینہ ریلوے سٹیشن سے گورداسپور کے لئے روانہ ہوئی تھیں۔اور امرتسر ، پٹھانکوٹ یا امرتسر ، گورداسپور ریل گاڑی غالباً پہلے ہی روز یا قریب میں جاری ہوئی تھی۔گورداسپور شہر سے تین میل کے فاصلہ پر موضع گاڈریاں میں آپ کے نانا حکیم صو با سکونت پذیر تھے۔جو مع دو برادران وہاں چالیس گھماؤں اراضی کے مالک تھے حکیم صاحب قرآن مجید ناظرہ کے علاوہ گورمکھی میں طب پڑھے ہوئے تھے۔اور ریاست چمبہ کے ایک رئیس کے کامیاب علاج کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے۔آپ یہ بھی لکھتے ہیں کہ یہ ریل ۱۸۸۲ء میں جاری ہوئی تھی۔نیز یہ کہ میری پیدائش ماہ پھاگن ۱۸۸۲ء ہے۔شائد پھاگن ۱۸۸۴ء ہو۔اور تعلیمی شوق سے داخلہ سکول کے واسطے عمر زیادہ لکھا دی گئی ہو۔آپ کی بیان کردہ روایات میں آپ کی ولادت ۱۸۷۹ء درج ہے۔اس ریل کی اجراء کی تاریخ طبع ثانی تک