اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 86 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 86

۸۶ ہے۔یہ فرما کر حضور مسجد مبارک کی سیڑھیوں پر چڑھنے لگ گئے۔اور میں بھی ساتھ مسجد مبارک میں چلا گیا۔اغلبا ۱۹۱۳ء میں میں راولپنڈی سے مع اہلیہ اول دوماہ کی رخصت لے کر قادیان آیا۔اور محترم قاضی عبدالرحیم صاحب کے مکان پر بطور کرایہ دار مقیم ہوا۔ایک روز گھر آنے پر اہلیہ نے بتلایا کہ مولوی عبدالحی صاحب خلف الصدق حضرت خلیفہ اول آئے تھے اور مجھے گھر پر نہ پا کر واپس چلے گئے۔مجھے فکر پیدا ہوا کہ کوئی خاص بات ہی ہوگی جو وہ میرے مکان پر آئے تھے۔میں جلدی جلدی گیا تو وہ حضرت خلیفہ اول کے مکان کے بیرونی دروازہ پر ہی مل گئے۔میں نے عرض کیا کہ آپ کو میرے مکان تک تکلیف کرنے کی کیا وجہ ہوئی۔خیر تو تھی انہوں نے بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ چونکہ ابا جان کو آپ سے محبت ہے۔اس لئے میں آپ کے دولت خانہ پر آپ کی ملاقات کے لئے گیا تھا۔اور پھر باتوں باتوں میں مجھے کہا کہ آپ کی صحت اچھی نہیں۔میں نے کہا کہ اپنی صحت کی طرف سے کچھ لا پر واہ سا ہوں۔تو اس پر انہوں نے تعجب سے کہا کہ یہ جسم تو اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے اس کی ناقدری کرنی مناسب نہیں۔خدا تعالیٰ نے یہ جسم اپنے کام کے لئے عطا کیا ہے۔پس وہ چاہتا ہے کہ ہم اسے اچھی حالت میں رکھ کر اس کا کام کریں۔مجھے اُن کے کلام سے تعجب ہوا کہ چھوٹی سی عمر میں کیسی باتیں کرتے ہیں ہیں۔انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ مجھے ابا جان نے سورہ فاتحہ کے بہت سے معانی یاد کرائے ہیں یا پڑھائے ہیں۔جن میں سے سینتیں مجھے یاد ہیں۔پھر کہا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کی اہلیہ صاحبہ کو بیماری سے شفاء کس طرح ہوئی۔میں نے کہا نہیں تو بتایا کہ جن ایام میں آپ ابا جان کی خدمت میں دعا کے لئے عرض کیا کرتے تھے۔اُن ہی دنوں ایک روز ابا جان گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ فضل احمد کو اپنی بیوی سے بڑی محبت ہے اور ہمیں فضل احمد سے محبت ہے۔ان کی بیوی کا ہر چند ہم نے علاج کیا مگر فائدہ نہیں ہوا۔اس لئے ان کے لئے اب اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتے ہیں۔یہ کہہ کر حضور ایک مصلی پر جو صحن میں پڑا تھا سجدے ان کی تاریخ ولادت ۱۵ فروری ۱۸۹۹ء ہے۔