اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 81 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 81

ΔΙ معلوم ہوا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا محمود صاحب ( یعنی خلیفہ ثانی جوان دنوں میاں صاحب کہلاتے تھے ) ڈلہوزی تشریف لے جارہے ہیں۔تھوڑی دیر میں آپ تشریف لائے۔میرے پوچھنے پر یہ فرمایا کہ ڈلہوزی جا رہا ہوں۔میں نے عرض کیا وہاں کا کو تو ال عبد الغفار خاں آپ سے ملنے کا بے حد مشتاق ہے۔غرض تھوڑی دیر میں یکہ روانہ ہو گیا۔اور میں نے اسی وقت ڈاک میں کو تو ال صاحب کو اطلاع دی کہ وہ نوجوان صالح جن کا میں نے ذکر کیا تھا اور جن کا اسم گرامی " مرزا محمود احمد صاحب آف قادیان“ ہے ڈلہوزی آ رہے ہیں آپ اُن کو ملیں۔اس خط کی روانگی کے بعد کے واقعات کا علم مجھے خود حضرت صاحبزادہ صاحب سے ہی ہوا۔میرا لفافہ ملنے پر کوتوال شہر و چھاؤنی نے اپنے آدمی بھیجے کہ مرزا محمود احمد آف قادیان کا پتہ لگا ؤ کہ وہ کہاں اُترے ہیں۔ان لوگوں نے سمجھا کہ وہ ایک بڑے پیر کے لڑکے ہیں اس لئے کسی خاص اہتمام اور خاص خدام کے ذریعہ آئے ہوں گے۔آخر کو تو ال صاحب ڈلہوزی شہر گئے تو انہیں معلوم ہوا کہ آپ ایک احمدی بھائی کے مکان پر اُترے ہوئے ہیں۔حضرت نے فرمایا کہ جب میں ڈلہوزی شہر پہنچا تو سیدھا ایک مسجد کو گیا۔وہاں میں نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک احمدی بھائی نے مجھے دیکھ لیا۔نماز کے بعد سلام کر کے بڑی خوشی کا اظہار کیا۔اور مجھے اپنے مکان پر لے گیا۔ایک دو روز کے بعد کو تو ال صاحب آئے اور آپ کا لفافہ دکھلا کر کہا کہ میں آپ کی تلاش کر رہا ہوں۔اب جو آپ مل گئے ہیں تو میرے مکان پر تشریف لائیں۔غرض وہ مجھے بیلون بازار چھاؤنی میں لائے اور شہر و چھاؤنی کے شرفاء کو دعوت دے کر بلایا اور مجھے کہا کہ آپ ان کو پہلے تبلیغ کریں۔بعد میں کھانا کھلایا جائے گا۔پھر مساجد میں لے جا کر تبلیغی گفتگو کرائی۔ڈلہوزی میں مستعفی ہونا آپ مزید لکھتے ہیں : چونکہ میری طبیعت میں مذہب کی طرف توجہ ان دنوں زیادہ ہو رہی تھی اور میں چاہتا تھا کہ شوق سے نمازیں پڑھوں اور نماز کے لئے دفتر سے جایا کرتا تھا اس لئے مجھے ہندو کلرک اچھی نگاہ سے نہ دیکھتے تھے۔اتفاق ایسا ہوا کہ میری تبدیلی میجر جائرس کنٹریکٹ آفیسر کے