اصحاب احمد (جلد 3) — Page 80
۸۰ معاف کریں مجھے آپ سے ایک دفعہ کی ملاقات کا شبہ پڑتا ہے۔وہ بھی کچھ یاد نہیں کہاں ہوئی تھی۔تو اس نے کہا آپ نے میری درخواست لکھی تھی جس پر مجھے دفعداری مل گئی تھی۔اس لئے میں آپ کا شکر گزار ہوں۔اور کہا اب رات بہت ہوگئی ہے۔میں جاتا ہوں۔چند آدمی چھوڑے جاتا ہوں جو رات کو آپ کا پہرہ بھی دیں گے تاکہ سامان چوری نہ ہو۔اور بعد روانگی خیمہ وغیرہ بھی سنبھال لیں گے۔میں نے سجدات شکر ادا کئے۔اور اللہ تعالیٰ کی اس بندہ نوازی نے میرے ایمان میں بڑی ترقی بخشی۔دوسرا واقعہ یہ ہے کہ ڈلہوزی میں میں ایک ایسے مکان میں اترا جہاں قریب کوئی احمدی نہ تھا۔کو تو ال عبد الغفار صاحب کا مکان راستے میں پڑتا تھا۔وہ مجھے آتے جاتے دیکھتے رہتے تھے۔ان کے مکان پر اکثر مہمان اور وہ بھی بڑے بڑے لوگ اتر تے تھے۔ایک مہمان شیخ دین محمد صاحب وکیل گوجرانوالہ تھے۔جو بعد تقسیم ملک سندھ کے گورنر مقرر ہوئے تھے۔میں کو توال صاحب کو سلام کر کے گذرتا۔مگر کبھی ان کے پاس نہ بیٹھتا۔ایک روز انہوں نے کہا آپ میرے پاس کیوں نہیں بیٹھتے؟ دیکھو میرے پاس مہمان اتر تے رہتے ہیں۔کھاتے پیتے ہیں۔آپ کبھی نہیں آتے۔میں نے کہا کہ جن چیزوں کی آپ کے پاس افراط ہے اور جنہیں آپ کے مہمان پسند کرتے ہیں۔میں ان اشیاء کا نہ شائق ہوں نہ طلبگار مجھے تو ایسے لوگوں کے پاس بیٹھنے کی خواہش ہوتی ہے جو خدا کی باتیں کریں یا سنیں۔اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور مجھے کہا کہ مجھے تو آپ جیسے لوگ پسند ہیں۔میں انہیں باہر لے گیا۔انہوں نے دل کھول کر باتیں کیں۔اور کہا کہ یہ دنیا دار تو میرے پاس کھانے پینے کے لئے آجاتے ہیں۔حقیقت میں ان کو نہ میرے ساتھ محبت ہے نہ مجھے ان کی خواہش۔مجھے تو با خدا لوگوں کی خواہش ہے۔سوشکر ہے کہ آپ مل گئے ہیں۔میں نے کہا ہمارے سلسلہ میں ایک نوجوان ایسا ہے جس کا تعلق خدا کے ساتھ ہے۔کہنے لگا وہ کون؟ میں نے کہا ”مرزا محمود احمد صاحب آف قادیان اس پر اس نے ملنے کی بڑی خواہش ظاہر کی اور دل سے چاہا کہ آپ پہاڑ پر ہی اُن سے ملیں۔اس خواہش صادق کو اللہ تعالیٰ نے پورا کر دیا۔اور وہ اس طرح کہ جب ۱۹۱۰ ء میں میں ڈلہوزی سے ملا زمت چھوڑ کر بٹالہ آگیا تو قادیان جانے پر دیکھا کہ ایک یکہ مسجد مبارک کی سیڑھیوں کے پاس کھڑا ہے