اصحاب احمد (جلد 3) — Page 79
و سفر و قیام ڈلہوزی میں بعض عجائبات آپ نے تحریر فرمایا کہ : ۱۹۰۹ء کا ابتدائی عرصہ انبالہ میں گذار کر گرمیوں میں شملہ سے چار پانچ میل پر چتو گ پہاڑ پر جانا پڑا۔تو مجھے شوق ہوا کہ میں اپنی تبدیلی ڈلہوزی کے دفتر اے ڈی ، الیس اینڈ ٹی۔لاہور ضلع میں کرالوں تا کہ مجھے قابل پنشن جگہ مل جائے۔اس کے لئے میں نے کوشش کی اور ایس اینڈ ٹی کے دفتر میں بطور کلرک لگ گیا۔۱۹۱۰ء کے موسم گرما میں مجھے ڈلہوزی اس دفتر کے ساتھ جانا پڑا۔اس سفر میں اور قیام ڈلہوزی میں عجیب واقعات پیش آئے جو میرے ایمان کی تقویت کا موجب ہوئے۔سفر ڈلہوزی میں میرے ہمراہ میری اہلیہ اوّل ، ان کے بھائی اکبر علی صاحب اور میرے بھائی امیر احمد صاحب سفر کر رہے تھے۔( ہم ایک سرکاری پردہ دار بیلوں والے ٹانگہ میں تھے۔ہم سب قریبا لیٹ کر سفر کر رہے تھے ) تین چار ٹانگے ہندو کلرکوں کے تھے۔ہم شام کے وقت دُنیرا کے پڑاؤ پر پہنچے۔وہاں کے ہندو سٹور کیپروں نے اپنے ہندو بھائیوں کو خیمے دے دیئے جن میں اُن کے اہل وعیال اتر پڑے اور میں کھڑا رہ گیا۔ہر چند اِدھر اُدھر مکانات اور خیموں کی تلاش کی مگر بے سود۔اکبر علی صاحب نے گھبرا کر مجھے کہا رات سر پر آگئی ہے اب کیا ہوگا؟ میں نے کہا خدا داری چہ غم داری۔خدا ضرور کوئی سامان کرے گا۔اتنے میں ایک گھوڑ سوار آیا۔اور اس نے مجھے محبت سے سلام کیا۔اور کہا۔ہیں آپ کہاں؟ میں نے قصہ سُنایا تو کہنے لگا آپ ذرا ٹھہریں میں ابھی آتا ہوں۔تھوڑی دیر میں وہ ایک خیمہ اور گھاس لایا اور چند سپاہی بھی۔جن کے ذریعہ اس نے خیمہ لگوایا اور گھاس اس میں بچھا کر کہا اپنے گھر والوں کو اس میں اتار دیں۔پھر ایک اور خیمہ بطور بیت الخلاء کے لگوا دیا۔پھر کہا کہ میں آپ کے لئے کھانا لاتا ہوں مگر کچھ دیر ہو جائے گی آپ معاف کریں۔چنانچہ ضروری سامان پانی وغیرہ بھجوا کر خود قریباً گیارہ بجے رات کے کھانا زردہ، دال، روٹی وغیرہ لایا۔اور معذرت کرنے لگا کہ چونکہ دیر ہو گئی تھی۔گوشت نہیں مل سکا۔دال ہی مل سکی ہے آپ یہی قبول فرما ئیں۔پھر پوچھنے پر کہنے لگا۔آپ مجھے نہیں جانتے میں نے کہا